ہوم » نیوز » عالمی منظر

اقوام متحدہ کی اسمبلی میں خطاب کے بعد عمران خان کودنیا سے ہیں یہ امید، خصوصی انٹرویو میں کیا انکشاف

مسئلہ کشمیرپردنیا بھرسے مایوسی کا سامنے کرنے کے بعدوزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک نیا بہانہ بنایاہے۔ عمران نے اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر پرانہیں کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ تاہم ،انہیں یقین ہے کہ ایک دن دنیا وادی کی موجودہ صورتحال پرضرورنظر ڈالے گی۔

  • Share this:
اقوام متحدہ کی اسمبلی میں خطاب کے بعد عمران خان کودنیا سے ہیں یہ امید، خصوصی انٹرویو میں کیا انکشاف
اقوام متحدہ میں پاکستان نے پھر الاپا کشمیر کا راگ ، جوہری جنگ کی دی گیدڑ بھبھکی

مسئلہ کشمیرپردنیا بھرسے مایوسی کا سامنے کرنے کے بعدوزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک نیا بہانہ بنایاہے۔ عمران نے اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر پرانہیں کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ تاہم ،انہیں یقین ہے کہ ایک دن دنیا وادی کی موجودہ صورتحال پرضرورنظر ڈالے گی۔خود کو کشمیریوں کا سفیر ماننے والے عمران خان نے سی این این کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعدوزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ خان نے کہا ، "وزیراعظم مودی نے کشمیر میں جو کچھ کیا،اس کے بعد، ان سے ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔"

دنیا کے لیے ہندوستان ہے ایک بڑا بازار: عمران

عمران سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں محسوس کرتے ہیں کہ دنیا مسئلہ کشمیرپرہندوستان سے سوال نہیں کررہی ہے، اس کے جواب میں ، عمران نے کہا ، "عالمی رہنما ہندوستان کو1ارب سے زیادہ لوگوں کی بازار کے طور پر دیکھتے ہیں"۔ایک سوال کے جواب میں ،عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم مودی کشمیرکے بارے میں کوئی بین الاقوامی ثالثی نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، 'یہ دوطرفہ معاملہ ہے۔ جب ہم ہندوستان سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک طرفہ مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کی 74 ویں اسمبلی میں عمران خان کا خطاب

اس سے پہلے جمعہ کے روز، خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کیااور ان کے 50 منٹ کے خطاب میں تقریباً نصف خطاب ہندوستان اورکشمیرپر ہی مرکوزتھا۔ وہاں بھی ، عمران نے مسئلہ کشمیر پراپنی پرانی کیسٹ بجائی۔عمران نے بین الاقوامی برادری کوانتباہ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیرکو حل نہیں کیاگیا تودنیا کوسنگین نتائج کا سامنا ہوسکتاہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے دورے میں یہ کامیابی حاصل کی ہے ، مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی برادری میرے خطاب سے متاثر ہوگی۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر پردونوں ممالک آمنے سامنے ہیں۔

جب عمران خان سے سوال کیا گیا کہ ہندوستان کا یہ دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کودہشت گردی کے واقعات کوانجام دینے کے لئے پاکستان کی جانب سے کشمیراورہندوستان کے دیگر حصوں میں دراندازی کے لئے لائن آف کنٹرول پربھیجا جارہا ہے، عمران خان نے کہا کہ انہوں نے خاص طورپر پاکستانیوں سے کہا کہ جو بھی کشمیرجائیگا وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا۔ ہم کشیدگی بڑھنا نہیں چاہتے:عمران خان پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہناہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب دو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک آمنے سامنے ہوں گے۔ اگریہ ویسے ہی رہا جیسے کہ فروری میں تھا، جب ہم نے طیارے کو مارنے کے بعد فوری طور پرپائلٹ رہا کردیاتھا۔کیونکہ ہم کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ، 'ہندوستان چھ سالوں میں بدل گیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ یہ بہت تیزی سے بدلنے والا ہے۔ اسی لئے میں اسے خوشامدانہ پالیسی کا نام دیتاہوں۔ دنیا کو آگے آنا ہوگا۔
واضح رہےے کہ 5 اگست کو، ہندوستان نے آرٹیکل 370 کی شقوں کو منسوخ کردیا ، جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی۔پاکستان نے اس پرسخت رد عمل اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان اس مسئلے کو بین الاقوامی فورموں پراٹھا کربین الاقوامی بنانے کی کوشش کر رہا ہے ، جبکہ ہندوستان اسے ہمیشہ ایک اندرونی معاملہ قراردیتارہا ہے جس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (پی ٹی آئی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)
First published: Sep 29, 2019 10:18 AM IST