اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’حقیقی آزادی‘ کیلئے آج سے پاکستان میں دوبارہ شروع ہوگا لانگ مارچ! عمران خان کی شرکت کی توقع، ہوگا جلد عام انتخابات کرانے کا مطالبہ

    فائل فوٹو (تصویر بشکریہ عمران خان ٹوئٹر)

    فائل فوٹو (تصویر بشکریہ عمران خان ٹوئٹر)

    پی ٹی آئی پنجاب کی رہنما اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جمعرات کو وزیر آباد سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے مارچ کی قیادت کریں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Pakistan
    • Share this:
      عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی (Pakistan Tehreek-e-Insaf party) جمعرات کو صوبہ پنجاب کے وزیر آباد سے اپنا رکا ہوا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جہاں گزشتہ ہفتے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اسلام آباد تک لانگ مارچ عمران خان پر حملے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد جلد ہی عام انتخابات کا مطالبہ ہے۔

      70 سالہ عمران خان کو دائیں ٹانگ میں گولی لگنے سے زخم آئے جب دو بندوق برداروں نے وزیر آباد کے علاقے میں ایک کنٹینر پر سوار ٹرک پر کھڑے ان پر اور دیگر افراد پر گولیاں برسائیں، جہاں وہ 3 نومبر کو مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ اس کے فوری بعد شوکت خانم اسپتال (Shaukat Khanum Hospital) میں ان کی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں نے انہیں چار سے چھ ہفتے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

      سابق کرکٹر سے سیاست دان بنے عمران خان اب زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں، انھوں نے منگل کو لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں پارٹی نے فیصلہ بدل دیا اور اسے جمعرات کے لیے طئے کیا گیا۔ وہ 10 سے 14 دنوں میں راولپنڈی میں لانگ مارچ میں شامل ہو جائیں گے۔

      پی ٹی آئی پنجاب کی رہنما اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بدھ کو پی ٹی آئی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جمعرات کو وزیر آباد سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے مارچ کی قیادت کریں گے۔ لانگ مارچ فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے دعاؤں کے ساتھ دوبارہ شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی قیادت میں 13 جماعتوں کی مخلوط حکومت کو قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے لوگوں کا ایک سمندر اسلام آباد پہنچے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      بدھ کو خان ​​کی لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ حقیقی آزادی مارچ عوامی اجتماع کے بعد جائے وقوعہ سے راولپنڈی کی طرف بڑھے گا۔ وفاقی حکومت نے ابھی تک پی ٹی آئی کو
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: