உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    organ transplantation: سائنس کی بڑی کامیابی! پہلی بار خنزیر کے دل کی انسانی جسم میں پیوندکاری

    ٹرانسپلانٹ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محمد محی الدین ہیں۔ (تصویر ٹوئٹر: twitter ajplus)

    ٹرانسپلانٹ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محمد محی الدین ہیں۔ (تصویر ٹوئٹر: twitter ajplus)

    میری لینڈ یونیورسٹی کے جانوروں سے انسانوں میں ٹرانسپلانٹ پروگرام کے سائنسی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد محی الدین نے کہا کہ اگر یہ کام کرتا ہے، تو دیگر مریضوں کے لیے ان اعضا کی لامتناہی فراہمی ہو جائے گی جو تکلیف میں مبتلا ہیں۔

    • Share this:
      میری لینڈ یونیورسٹی کے مطابق خنزیر کے دل کی انسانی جسم میں پہلی کامیاب پیوند کاری کے بعد ایک مریض اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر ان لوگوں کے لیے ایک نئی راہ کھول رہا ہے جو زیادہ بوجھ والے ڈونر سسٹم کا سامنا کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر (University of Maryland Medical Center) نے کہا کہ نئے سال کے موقع پر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ (David Bennett) کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کے دل کی پیوند کاری کی ہنگامی اجازت دی۔ اس سے قبل بینیٹ روایتی ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے نااہل قرار دئے گئے تھے۔ وہ جان لیوا اریتھمیا (Arrhythmia) کی وجہ سے چھ ہفتوں سے اسپتال میں داخل تھے۔

      آپریٹنگ فزیشن ڈاکٹر بارٹلی گریفتھ (Dr. Bartley Griffith) نے پیر کے روز اس پیوناکاری کو ایک ’بریک تھرو سرجری‘ قرار دیا۔ گریفتھ نے ایک بیان میں کہا کہ ممکنہ وصول کنندگان کی طویل فہرست کو پورا کرنے کے لیے عطیہ دینے والے انسانی دل دستیاب نہیں ہیں۔ ہم محتاط طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اس ضمن میں بھی پر امید ہیں کہ یہ دنیا کی پہلی سرجری مستقبل میں مریضوں کے لیے ایک اہم نیا آپشن فراہم کرے گی۔

      گریفتھ اور ڈاکٹر محمد ایم محی الدین یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن میں سرجری کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے خنزیر کے دلوں کو غیر انسانی وصول کنندگان میں ٹرانسپلانٹ کرنے کی تکنیکوں کو مکمل کرنے میں پانچ سال گزارے۔ بینیٹ کی نگرانی آنے والے ہفتوں میں جاری رہے گی لیکن سرجری کے بعد سے تین دنوں میں وہ ٹھیک ہو رہے ہیں۔

      میری لینڈ یونیورسٹی کے جانوروں سے انسانوں میں ٹرانسپلانٹ پروگرام کے سائنسی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد محی الدین نے کہا کہ اگر یہ کام کرتا ہے، تو دیگر مریضوں کے لیے ان اعضا کی لامتناہی فراہمی ہو جائے گی جو تکلیف میں مبتلا ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: