உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طاقتور وار لارڈ اسماعیل خان طالبان کے قبضے میں، اب افغانستان میں کیا ہوگا؟

    طاقتور وار لارڈ اسماعیل خان طالبان کے قبضے میں، اب افغانستان میں کیا ہوگا؟

    طاقتور وار لارڈ اسماعیل خان طالبان کے قبضے میں، اب افغانستان میں کیا ہوگا؟

    اسماعیل خان ، افغانستان کے سابق افغانی صدر حامد کرزئی کی حکومت میں وزیر تھے۔ اس سے پہلے بھی 1997 میں انہیں طالبان نے اغوا کرلیا تھا، لیکن دو سال بعد قندھار میں طالبان کی گرفت سے بھاگ نکلے تھے اور پھر امریکی فوج کے ساتھ دہشت گرد تنظیم کے خلاف بڑی مہم چلائی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان پر دوسری مرتبہ کنٹرول کے لئے بڑھ رہے طالبان (Taliban) نے بڑے وار لارڈ اسماعیل خان (Warlord Ismail Khan) کا اغوا کرلیا ہے۔ اسماعیل خان کے ساتھ طالبان نے کابل کے کچھ افسران اور دو ہیلی کاپٹر بھی اپنے قبضے میں لے لئے ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق، افسران کو کئی مقامات سے اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ طالبان نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

      75 سال کے اسماعیل خان افغانستان میں بڑی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ 2001 میں طالبان کو معزول کرانے میں مدد کی تھی۔ انہوں نے جمعہ کو ایک بار پھر طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھالیا تھا۔ دراصل طالبان مغربی افغانستان کے گڑھ ہیرات کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد ہی اسماعیل خان نے دوبارہ ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

      کرزئی حکومت میں تھے وزیر، پہلے بھی اغوا کرچکا ہے طالبان

      سابق افغانی صدر حامد کرزئی کی حکومت میں اسماعیل خان وزیر تھے۔ اس سے پہلے بھی 1997 میں انہیں طالبان نے اغوا کرلیا تھا، لیکن دو سال بعد قندھار میں طالبان کی گرفت سے بھاگ نکلے تھے اور پھر امریکی فوج کے ساتھ دہشت گرد تنظیم کے خلاف بڑی مہم چلائی تھی۔ وہ سال 2005 سے لے کر 2013 تک ملک کے وزیر توانائی اور آبی وسائل کے وزیر تھے۔ اس سے پہلے وہ ہیرات صوبہ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ اسماعیل خان افغانستان کی فوج میں کیپٹن بھی تھے، لیکن ان کی اہم پہچان ایک وار لارڈ کی ہے کیونکہ ان کے پاس مجاہدین کی ایک بڑی فوج تھی۔ اس فوج میں زیادہ لوگ مغربی افغانستان سے تھے، جو تازک نژاد تھے۔

      افغانستان میں ہوتا جارہا ہے طالبان

      امریکی فوجیوں کی افغانستان کی وداعی کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا ہے، طالبان ویسے ویسے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ طالبان نے ایران سرحد سے لے کر چینی سرحد تک کے بڑے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔

      ہندوستان نے اپنے شہریوں کے لئے جاری کی ایڈوائزری

      طالبان کے سبب افغانستان میں حالات انتہائی بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی درمیان ہندوستان نے دوماہ کے اندر چوتھی بار اپنے شہریوں کے لئے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ حکومت نے ہندوستانیوں کو گائڈ لائنس پر عمل کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس سے پہلے بھی سفارت خانہ نے ہندوستانیوں کو فوری اثر سے افغانستان چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ افغانستان میں ابھی بھی 1500 ہندوستانی موجود ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی نے بھی اپنے شہریوں کے لئے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: