ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی بدعنوانی مخالف مہم: جانیں حکومت کو کتنے سو ارب ریال کی ہوئی آمدنی

سعودی دارالحکومت ریاض سے موصولہ نیوز ایجنسی رائٹر کی رپورٹوں کے مطابق ملکی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے آج بتایا کہ حکومت نے ملک بھر میں بدعنوانی کے خلاف گزشتہ برس کے اواخر میں جو وسیع تر مہم شروع کی تھی، اس دوران کل 381 انتہائی امیر اور بہت با اثر سعودی شخصیات کو حراست میں لیا گیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 31, 2018 11:26 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سعودی بدعنوانی مخالف مہم: جانیں حکومت کو کتنے سو ارب ریال کی ہوئی آمدنی
سعودی عرب کے ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے۔ فوٹو کریڈٹ، رائٹرز۔ (فائل فوٹو)۔

ریاض ۔ سعودی عرب میں جاری وسیع تر اینٹی کرپشن مہم سے حکومت کو اب تک چار سو ارب ریال یا ایک سو سات ارب امریکی ڈالر کے برابر فائدہ ہوا ہے۔ گرفتار کیے گئے کل چار سو کے قریب بہت سے امیر سعودی شہریوں میں سے پینسٹھ ابھی زیر حراست ہیں۔ سعودی دارالحکومت ریاض سے موصولہ نیوز ایجنسی رائٹر کی رپورٹوں کے مطابق ملکی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے آج بتایا کہ حکومت نے ملک بھر میں بدعنوانی کے خلاف گزشتہ برس کے اواخر میں جو وسیع تر مہم شروع کی تھی، اس دوران کل 381 انتہائی امیر اور بہت با اثر سعودی شخصیات کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں بہت بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور موجودہ اور سابقہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے۔


شیخ سعود المجیب کے مطابق اب تک ان میں سے 316 ارب پتی اور کھرب پتی سعودی باشندوں کو دوبارہ رہا کیا جا چکا ہے جبکہ 65 تاحال حکام کی حراست میں ہیں۔ ان تمام شخصیات کو رشوت اور بدعنوانی کے الزامات یا کرپشن کے شبہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔

شیخ سعود المجیب نے بتایا کہ ان مشتبہ افراد میں سے جو بے قصور پائے گئے، انہیں تو ویسے ہی رہا کر دیا گیا جبکہ جن پر کرپشن کے الزامات ثابت ہو گئے اور جنہوں نے اپنے مالی بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا تھا، ان میں سے کئی کو حکومت کو مالی ادائیگیوں سے متعلق تصفیے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن انہی میں سے بہت سے افراد ابھی تک حکام کی حراست میں بھی ہیں۔


سعودی اٹارنی جنرل کی طرف سے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ سینکڑوں زیر حراست سعودی شہریوں میں سے جن کو ادائیگیوں کے تصفیوں کے بعد رہا کیا گیا، ان سے ریاض حکومت کو نقد رقوم یا مختلف اثاثوں کی صورت میں مجموعی طور پر 400 ارب ریال یا 107 ارب امریکی ڈالر کے برابر آمدنی ہوئی۔ ان اثاثوں میں غیر منقولہ املاک، تجارتی نوعیت کی جائیدادیں اور حصص یا مالیاتی بانڈز بھی شامل ہیں۔ جو 65 سعودی شہری تاحال حراست میں ہیں، ان کے ساتھ حکومت کا ابھی تک کوئی مالی تصفیہ اس لیے نہیں ہو سکا کہ ان کے خلاف تحقیقات یا تو ابھی جاری ہیں یا پھر ان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ابھی التوا میں ہیں۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ کرپشن کے الزام میں زیر حراست سعودی شہریوں میں سے جن کو گزشتہ ویک اینڈ پر رہا کیا گیا، ان میں شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں، جو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔




سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ۔ فائل فوٹو
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ۔ فائل فوٹو

الولید بن طلال ان کم از کم 11 سعودی شہزادوں اور درجنوں انتہائی کامیاب کاروباری شخصیات میں سے ایک تھے، جنہیں اس ملک گیر اینٹی کرپشن مہم کے آغاز پر گزشتہ برس چار نومبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ جن انتہائی بااثر اور سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی درجنوں شخصیات کو نومبر 2017میں اس مہم کے آغاز پر حراست میں لے کر دارالحکومت ریاض کے انتہائی مہنگے رٹز کارلٹن ہوٹل میں نظر بند کر دیا گیا تھا، اب وہ تمام مشتبہ افراد بھی رہا کر دئیے گئے ہیں۔ سعودی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر رائٹر کو بتایا، ’’اب ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں کوئی بھی سعودی شہری حکومتی حراست میں نہیں ہے۔‘‘ اس ہوٹل کی ویب سائٹ کے مطابق ریاض کا یہ انتہائی پرتعیش اور مہنگا ہوٹل فروری کے وسط سے عام مہمانوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

First published: Jan 31, 2018 11:26 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading