ہوم » نیوز » عالمی منظر

ہندستان کی طرف سے پاکستان کو بھیجی جا سکتی ہے کورونا وائرس ویکسین: رپورٹ

ہندوستانی ویکسین کی دنیا بھر میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ اب تک تقریبا 92 ممالک حکومت ہند سے ویکسین خریدنے پر خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پڑوسی ملک پاکستان بھی ہندستان سے ویکسین کی خوراک لے سکتا ہے؟

  • Share this:
ہندستان کی طرف سے پاکستان کو بھیجی جا سکتی ہے کورونا وائرس ویکسین: رپورٹ
ہندوستانی ویکسین کی دنیا بھر میں بہت زیادہ مانگ ہے۔

نئی دہلی. کورونا وائرس  (Covid-19 pandemic) کو ہرانے کے لئے ہندستان کی جانب سے  پڑوسی ممالک کی مسلسل مدد کی جارہی ہے۔ ہندستان اب تک بنگلہ دیش ، نیپال ، بھوٹان اور مالدیپ کو   کورونا ویکسین (Covid-19 Vaccine) کی لاکھوں خوراکیں بھیج چکا ہے۔ ہندوستانی ویکسین کی دنیا بھر میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ اب تک  تقریبا 92 ممالک حکومت ہند سے ویکسین خریدنے پر خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پڑوسی ملک پاکستان بھی ہندستان سے ویکسین کی خوراک لے سکتا ہے؟


میڈیا رپورٹس کے مطابق  (Neighborhood) فرسٹ پالیسی کے تحت  ہندوستان اپنے پڑوسی اور قریبی ممالک کو کورونا ویکسین بھیج رہا ہے۔ ہندی اخبار دینک بھاسکر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ پی ایم مودی انسانیت کے نام پر پڑوسی ممالک کو کورونا ویکسین دے رہے ہیں۔ ایسے میں  اگر پاکستان بھی ویکسین مانگتا ہے  تو اسے ہندوستان کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔  بتادیں کہ پاکستان نے اب تک دو ویکسینوں کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ یہ چین کی ویکسین سونوفارم اور آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا کے کووی شیلڈ ہیں۔


ہندستان سے ویکسین لینے کے دو راستے۔۔۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق پاکستان بھی  ہندوستان سے  کورونا وائرس  ویکسین (Covid-19 Vaccine) لینا چاہتا ہے۔ اس کے لئے پاکستان کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ پی ایم  عمران خان کی حکومت ، وزیر اعظم مودی سے پڑوسی ہونے کے ناطے  ویکسین (Covid-19 Vaccine) کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ (Neighborhood) فرسٹ پالیسی  کے تحت پاکستان کو ویکسین دے سکتا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ذریعہ یہ ویکسین لینے کا ایک اور راستہ ہے۔ دراصل ، کوویکس نامی ایک تنظیم ہے  جس کے ذریعے 190 ممالک کی 20 فیصد آبادی کو مفت ویکسین دی جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس کا ممبر ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 22, 2021 09:20 AM IST