உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وہائٹ ہاوس سے اقوام متحدہ تک ہندوستان نے کیسے جیتی بازی، طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان کو گھیرا

    وہائٹ ہاوس سے اقوام متحدہ تک ہندوستان نے کیسے جیتی بازی، طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان کو گھیرا

    وہائٹ ہاوس سے اقوام متحدہ تک ہندوستان نے کیسے جیتی بازی، طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان کو گھیرا

    عمران خان افغانستان میں جمعہ کو جب طالبان کے حق میں بول رہے تھے، تب واشنگٹن میں وہائٹ ہاوس سے لے کرنیویارک میں یو این آفس تک ہندوستان نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے طالبان کے مسئلے کو کواڈ سمٹ میں اٹھایا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نیویارک: وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے سفر (PM Modi in America) پر ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سفارتی سطح پر ہندوستان (India) کے لئے یہ دورہ کامیاب ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پہلے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملاقات میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس (US VP Kamala Harris) نے پاکستان اور دہشت گرد جیسے الفاظ کا ذکر کیا۔ اس کے بعد صدر جو بائیڈن اور کواڈ سمٹ میں امریکہ (America)، جاپان (Japan) اور آسٹریلیا کے لیڈروں نے پاکستان (Pakistan) میں دہشت گردی (Terrorism) اور افغانستان کی تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ جمعہ کو جب عمران خان افغانستان میں طالبان کے حق میں بول رہے تھے، تب واشنگٹن میں وہائٹ ہاوس (White House) سے لے کرنیویارک (New York) میں یو این آفس (UN Office) تک ہندوستان نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے طالبان (Taliban) کے مسئلے کو کواڈ سمٹ (Quad Summit) میں اٹھایا تھا۔ وزیر اعظم مودی - بائیڈن ملاقات کے بعد ہندوستانی خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے بتایا کہ یہ واضح ہے کہ اب دہشت گردی کے موضوع پر اور افغانستان میں پاکستان کے کردار کی زیادہ محتاط جانچ اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

      یو این میں طالبان کے وکیل بنے وزیر اعظم عمران

      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں طالبان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی کارگزار کابینہ نے افغانستان میں حقوق انسانی کا احترام کرنے اور جامع حکومت بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے گلوبل کمیونٹی سے طالبان کا ساتھ دینے کی اپیل کی، تاکہ افغانستان کے حالات کو سدھارا جاسکے۔

      اپنے خطاب میں کیا پاکستان کا بچاو

      عمران خان نے اپنے بیشتر خطاب میں پاکستان کا بچاو ہی کرتے نظر آئے۔ پاکستان 1996 سے 2001 تک طالبان حکومت کا بڑا حامی رہ چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘وہاں خراب ہوتے حالات کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، لیکن سب سے بڑی قیمت ہم نے ادا کی ہے۔ 80 ہزار لوگ مارے گئے، 120 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ ہم نے امریکہ کے لئے جنگ لڑی۔ 1983 میں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے مجاہدین کو ہیرو بتایا تھا۔ جب سوویت افواج وہاں سے چلی گئیں تو امریکہ نے افغانستان کو اکیلا چھوڑ دیا۔ ہم نے امریکہ کی جنگ میں اس کا ساتھ دیا، لیکن بدلے میں ہمیں کبھی تعریف نہیں ملی، بلکہ ہمیں ان تازہ حالات کے لئے قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے‘۔ واضح رہے کہ امریکی افسر اکثر پاکستان کی آئی ایس آئی پر طالبان کو سپورٹ کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

      پھرہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کا خوف دکھایا

      عمران خان اپنے خطاب میں ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کے خوف کرتے ناٹک کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ہندوستان کے بلین ڈالر مارکیٹ کی طرف بھاگ رہی ہے، لیکن وہاں آر ایس ایس اور بی جے پی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملک 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاو کیا جا رہا ہے۔ وہیں عمران خان کے خطاب کے بعد اقوام متحدہ میں ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری اسنیہا دوبے نے انہیں منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے پاکستان پر اسامہ بن لادن کو پالنے اور پڑوسی ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کا قصور وار ٹھہرایا۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: