உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دوحہ میں ہندوستان نےطالبان سے کیا باضابطہ مذاکرات، جانیں میٹنگ میں کیا ہوا

    دوحہ میں ہندوستان نےطالبان سے کیا باضابطہ مذاکرہ، جانیں میٹنگ میں کیا ہوا

    دوحہ میں ہندوستان نےطالبان سے کیا باضابطہ مذاکرہ، جانیں میٹنگ میں کیا ہوا

    ہندوستان نے طالبان (Taliban) سے یہ تشویش ظاہرکی کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے نہ ہو۔ طالبان کی طرف سے ہندوستان سے متعلق مسئلوں کو مثبت طریقے سے پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: قطر (Qatar) میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل نے دوحہ میں طالبان (Taliban) کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس استانک زئی (Sher Mohammad Abbas Stanekzai) سے ملاقات کی۔ اس دوران افغانستان (Afghanistan) میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی اور جلد واپسی کو لے کر تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے طالبان سے یہ تشویش ظاہر کی کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے نہ ہو۔ طالبان کی طرف سے ہندوستان سے متعلق مسئلوں کو مثبت طریقے سے پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

      وزارت خارجہ نے منگل کو یہ بیان جاری کرکے اس ملاقات کے بارے میں جانکاری دی۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس اسٹانک زئی سے ملاقات کی۔ یہ میٹںگ افغانستان میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور جلد واپسی پر مرکوز رہی‘۔

      وزارت نے بیان میں کہا، ’سفیر دیپک متل نے ہندوستان کی تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال کسی بھی طرح سے ہندوستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لئے نہین کیا جانا چاہئے۔ طالبان کے نمائندہ نے سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ ان موضوعات کو مثبت طریقے سے پیش کیا جائے گا‘۔

      افغانستان سے امریکی فوجیوں کی ہوئی واپسی

      واضح رہے کہ افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کے بعد صدر جو بائیڈن نے منگل کو اعلان کیا کہ جنگ سے متاثر ملک میں امریکہ نے سب سے طویل وقت تک چلی جنگ کو ختم کردیا ہے۔ افغانستان سے امریکی اہلکاروں کی مکمل واپسی کے بعد طالبان نے کابل کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ امریکی اہلکاروں کو لے جانے والا آخری طیارہ مقررہ وقت سے ایک دن پہلے پیر کی شب کو افغانستان سے روانہ ہوا۔ اس طرح 20 سال تک چلی جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔ امریکی فوج کے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی پوری طرح ختم کرنے کے بعد طالبان نے جیت کا جشن مناتے ہوئے اسے پورے افغانستان کی جیت قرار دیا۔

      امریکہ نے افغانستان میں 20 سال کی طویل جنگ کو ختم کردیا اور اس جنگ میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔ جنگ میں بڑی تعداد میں افغانستان کے لوگ مارے گئے۔ اس کے علاوہ امریکیوں اور ان کے ناٹو اتحادی ممالک کے لوگ مارے گئے ہیں۔ چونکہ امریکہ نے اس کے لئے ادائیگی کرنے کے لئے بیشتر رقم بطور قرض لیا تھا، اس لئے آنے والی امریکی نسلیں اس کی لاگت کی ادائیگی کھربوں ڈالر میں کریں گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: