உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan: ’افغانستان میں ہندوستان اہم اسٹیک ہولڈر، اسے کوئی نہیں روک سکتا‘ اجیت ڈوول

    Youtube Video

    ڈووال نے کہا کہ دہشت گردی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے افغانستان کو زور دینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں موجود تمام ممالک کو اس پر زور دینا ہوتا۔ ہماری اولین ترجیح زندگی کا حق اور باوقار زندگی کے ساتھ ساتھ سب کے انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔

    • Share this:
      قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول (National Security Adviser Ajit Doval) نے کہا کہ ہندوستان، افغانستان (Afghanistan) میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر تھا اور ہے۔ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ صدیوں پر محیط خصوصی تعلقات ہندوستان کے نقطہ نظر کی رہنمائی کریں گے۔ کوئی بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بات اس وقت کہی، جب تاجکستان، ہندوستان، روس، قازقستان، ازبکستان، ایران، کرغزستان اور چین کے قومی سلامتی کے مشیروں نے جمعہ کو دوشنبہ میں ملاقات کی۔

      یہ ملاقات نومبر 2021 میں نئی ​​دہلی (Delhi Declaration) میں افغانستان سے متعلق تیسرے علاقائی سلامتی کے مذاکرات کے بعد ہوئی۔ دہلی اعلامیہ کی روح کو آگے بڑھاتے ہوئے NSAs نے افغانستان اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور خطے سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعمیری طریقے تلاش کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

      ڈوول نے کہا کہ ہندوستان کے افغانستان کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ ہندوستان کے نقطہ نظر کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

      اجیت ڈوول نے کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں سے بنیادی ڈھانچے، رابطے اور انسانی امداد پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اگست 2021 سے ہندوستان پہلے ہی 50,000 MT کے کل عزم میں سے 17,000 MT گندم، Covaxin کی 5,00,000 خوراکیں، 13 ٹن ضروری جان بچانے والی ادویات اور موسم سرما کے لباس کے ساتھ ساتھ پولیو ویکسین کی 60 ملین خوراکیں فراہم کر چکا ہے۔

      NSA نے خواتین اور اقلیتوں سمیت افغان معاشرے کے تمام طبقوں کی نمائندگی کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ افغان آبادی کے سب سے بڑے ممکنہ تناسب کی اجتماعی توانائیاں قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی تحریک محسوس کریں۔

      ڈووال نے کہا کہ دہشت گردی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے افغانستان کو زور دینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں موجود تمام ممالک کو اس پر زور دینا ہوتا۔ ہماری اولین ترجیح زندگی کا حق اور باوقار زندگی کے ساتھ ساتھ سب کے انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ امداد سب کے لیے قابل رسائی ہونی چاہیے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تمام ذمہ داریوں کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔

      مزید پڑھیں: آرین خان کو ڈرگس معاملے میں کلین چٹ، تو انہیں گرفتار کرنے والے سمیر وانکھیڑے کی مشکلات میں اضافہ

      خواتین کے حقوق کے لیے بیٹنگ کرتے ہوئے NSA نے مزید کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم کی فراہمی اور خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی پیداواری صلاحیت اور ترقی کو یقینی بنائے گی۔ اس کے مثبت سماجی اثرات بھی ہوں گے جن میں نوجوانوں میں بنیاد پرست نظریات کی حوصلہ شکنی بھی شامل ہے۔

      مزید پڑھیں: Modi@8:پی ایم مودی نے 8 سالوں میں بڑھائی عوام کی شراکت داری

      انہوں نے کہا کہ علاقائی ڈائیلاگ کے اراکین کی اجتماعی کوششوں سے ہم افغانستان کے قابل فخر لوگوں کو ایک بار پھر ایک خوشحال اور متحرک قوم بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: