உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہربانی کرکے بچوں کے علاج کیلئے دونوں کو ویزا دیں، پاکستانی والدین کی ہندستان سے گہار

    گزشتہ چند دنوں میں بہت سے پاکستانی کنبوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہندستان نے حال ہی میں میڈیکل ویزا کے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب مریض کے علاوہ والدین میں سے صرف ایک کو ہی ویزا دیا جاتا ہے۔

    گزشتہ چند دنوں میں بہت سے پاکستانی کنبوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہندستان نے حال ہی میں میڈیکل ویزا کے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب مریض کے علاوہ والدین میں سے صرف ایک کو ہی ویزا دیا جاتا ہے۔

    گزشتہ چند دنوں میں بہت سے پاکستانی کنبوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہندستان نے حال ہی میں میڈیکل ویزا کے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب مریض کے علاوہ والدین میں سے صرف ایک کو ہی ویزا دیا جاتا ہے۔

    • Share this:
      پاکستان سے تعلق رکھنے والے سمن عفیف کے دو سالہ بیٹے محمد کو خون سے متعلق ایک سنگین بیماری ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا خون بغیر کسی چوٹ کے بہتا رہتا ہے۔ اس کی بھارت میں ایک ضروری سرجری ہونی ہے لیکن سمن اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلے کراچی سے دہلی کا سفر کرنے سے ڈر رہیں ہیں کیونکہ ان کے شوہر کو ویزا نہیں مل رہا ہے۔ سمن جو ایک پاکستانی شہری ہیں، ہندوستان کے میڈیکل ویزا میں اس طرح کی پریشانی کا سامنا کرنے والی واحد فرد نہیں ہے اور بھی بہت سے خاندان ہیں، جو ویزا کی تلاش میں ہیں۔

      سمن نے نیوز 18 کو کراچی سے فون پر بتایا کہ اگر ہندوستانی حکومت بیٹے کی سرجری کے لیے مجھے اور میرے شوہر دونوں کو ویزا دے تو یہ بہت مہربانی ہوگی۔ ہم نے کئی ڈاکٹروں سے بات کی لیکن انہوں نے یہ سرجری کرنے سے انکار کر دیا۔ دہلی میں ایک ڈاکٹر نے میرے بچے کی جان بچانے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ مجھے اور میرے بیٹے کو ویزا مل گیا ہے لیکن میرے شوہر کو ویزا نہیں ملا۔ ہم اب بھی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے۔ اتنے بڑے آپریشن کے لیے میں اکیلا دہلی نہیں جا سکتی اور محمد بہت چھوٹا ہے کہ میرے بغیر اکیلا نہیں رہ سکتا۔

      گزشتہ چند دنوں میں بہت سے پاکستانی کنبوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہندستان نے حال ہی میں میڈیکل ویزا کے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب مریض کے علاوہ والدین میں سے صرف ایک کو ہی ویزا دیا جاتا ہے۔ ہندستان اور پاکستان کے درمیان ویزہ تعلقات میں گزشتہ برسوں میں کمی آئی ہے لیکن بھارت اب بھی میڈیکل ویزا دیتا ہے کیونکہ بہت سے پاکستانی شہری پیچیدہ سرجریوں کے لیے یہاں آتے ہیں۔



      OMG! یہاں بچیوں کے باندھ دئے جاتے تھے پاؤں، بھیانک درد دیکر مردوں کو خوش کرنا تھی وجہ....

      پچھلے مہینے، پانچ سالہ پاکستانی بچی زہرہ کو دہلی لانے کے چند دنوں کے اندر، اس کی ماں کو بغیر سرجری کے واپس جانا پڑا کیونکہ وہ حاملہ تھیں اور خوفزدہ ہو گئی تھیں۔ ان کے شوہر کو بھی ہندوستان کا میڈیکل ویزا نہیں ملا تھا۔ دہلی کے اپولو اسپتال کے ڈاکٹر راجیش شرما نے نیوز 18 کو بتایا کہ لڑکی کی اس سے قبل دو بار دل کی سرجری ہوئی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ اب اسے ہائی رسک سرجری کروانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر کچھ دیر سوچنا چاہیے۔ وہ ملک ہمارے ساتھ کیا کرتا ہے، ہم بیمار بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔ ماہر اطفال ڈاکٹر راجیش پہلے بھی کئی پاکستانی بچوں کا علاج کر چکے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: