ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندوستان۔پاکستان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے متحدہ عرب امارت نے کی کوششیں، سفارت کار نے کیا انکشاف

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (Research and Analysis Wing) اور پاکستان کی انٹر سروسز انٹلیجنس (Inter-Services Intelligence ) کے عہدیداروں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ایما پر دبئی کا سفر کیا

  • Share this:
ہندوستان۔پاکستان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے متحدہ عرب امارت نے کی کوششیں، سفارت کار نے کیا انکشاف
ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش

متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates) کے امریکی میں سفیر ، یوسف الاطبیبہ(Yousef al-Otaiba) نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں 'صحت مندانہ سطح پربہتری' لانے میں اپنا کردار ادا کررہاہے۔۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹی ٹیوشن کے ساتھ ایک ڈیجیٹل گفتگو میں ، یوسف الاطبیبہ نے بدھ کے روز کہا ، "وہ شاید بہت اچھے دوست نہ ہوں گے ، لیکن ہم انہیں کم از کم اس سطح پر لانا چاہتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے سے بات کرتے رہیں۔


اس سے پہلے خبررساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ جنوری میں ہندوستان اور پاکستان کے اعلی انٹیلیجنس افسران دبئی میں کشمیر کے ضمن میں ایک نئی کوشش کے تحت خفیہ بات چیت ہوئی تھی۔یادرہے کہ 11 فروری 2019 کو پلوامہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے ایٹمی مسلح حریفوں کے مابین تعلقات پر برف جمی ہوئی ہے۔ جب ایک 22 سالہ خودکش بمبار کا آئی ای ڈی سے بھری بارودی مواد سے ٹکراؤ کے بعد سنٹرل ریزرو پولیس فورس (Central Reserve Police Force (CRPF)) کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے۔


ہندوستان اور پاکستان
ہندوستان اور پاکستان


اس کے کچھ دن بعد پاکستان میں قائم دہشت گرد گروہ جیش محمد (Jaish-e-Mohammed (JeM)) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ حملے کے بارہ دن بعد 26 فروری کی شام کے اوقات میں ہندوستانی فضائیہ (Indian Air Force) کے جیٹ طیاروں نے پاکستان کے خیبر پختون خوا کے قریب بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کیمپ پر بمباری کی۔اس کے کچھ مہینوں بعد مرکز نے آئین کے دفعہ 370 کو منسوخ کردیا جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی۔ جس سے پاکستان میں غم و غصہ پھیل گیا اور سفارتی تعلقات میں گراوٹ اور دوطرفہ تجارت معطل ہوگئی۔

تاہم دونوں حکومتوں نے سفارت کاری کا بیک چینل دوبارہ کھول دیا ہے جس کا مقصد اگلے کئی مہینوں میں تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے ایک معمولی روڈ میپ بنانا ہے۔ہندوستان کی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (Research and Analysis Wing) اور پاکستان کی انٹر سروسز انٹلیجنس (Inter-Services Intelligence ) کے عہدیداروں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ایما پر دبئی کا سفر کیا، جو کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے ضمن میں اہم مانا جارہا ہے۔

وزارت خارجہ (Ministry of External Affairs ) اس پر کسی بھی طرح کے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی بھی جواب نہیں دیا۔ پاکستان کی فوج نے بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرتی ہے۔تاہم پاکستان کی ایک اعلی دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ (Ayesha Siddiqa) نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے افسران کئی مہینوں سے یو اے ای میں مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں تھائی لینڈ، دبئی اور لندن میں اعلی سطح کے لوگوں کے مابین ملاقاتیں ہوئیں‘۔

’’یہ عام بات ہے‘‘

اس طرح کی ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ خاص طور پر بحرانوں کے وقت لیکن کبھی بھی اس طرح سرعام اعتراف نہیں کیا گیا۔

دہلی میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ’’بہت ساری باتیں اب بھی غلط ہوسکتی ہیں۔ یہ فراڈ ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عوامی سطح پر اس پر بات نہیں کررہا ہے۔ ہمارے یہاں اس کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ یہ امن عمل نہیں ہے۔ آپ اسے دوبارہ مشغولیت (re-engagement) کہہ سکتے ہیں‘‘۔دونوں ممالک کے پاس آپسی تعلقات کی بحالی کے کئی وجوہات ہیں۔ ہندوستان گذشتہ برس سے چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں مصروف رہا اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کے محاذ پر بھی فوجی کشیدگی ہو۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 16, 2021 08:13 AM IST