உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کو لے کر کشیدگی کے باوجود اس معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوگی اعلی سطحی میٹنگ

    کرتار پور کاریڈور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوگی اعلی سطحی میٹنگ

    کرتار پور کاریڈور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوگی اعلی سطحی میٹنگ

    ہندوستان کے جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ خاتمہ اور آرٹیکل 370 کے التزام ختم کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے باوجود کرتارپور کوریڈور پہلے سے مقرر ہ پروگرام کے تحت کھولے جانے کا امکان ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کرتارپور صاحب میں واقع گرودورا جانے کے لئے بنائے جا رہے کوریڈور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعلی حکام کی میٹنگ بدھ کو ہوگی۔ چار ستمبر کو ہونے والی یہ ملاقات ہندوستان کی طرف سے واگہہ -ا ٹاری بارڈ پر ہوگی۔ اس سے قبل جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کی میٹنگ ’زیرو پوائنٹ‘ پر ہوئی تھی۔ بدھ کو ہونے والی میٹنگ میں کرتارپور کوریڈور کو کھولنے سے متعلق مسودہ دستاویزات کو حتمی شکل دیئے جانے کی توقع ہے۔

      دی ایکسپریس ٹربیون نے سفارتی ذرائع کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کی پیشکش کے بارے میں پہلے ہی جواب دے دیا گیا ہے۔ پاکستان کے وفد کی قیادت جنوبی ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کریں گے۔

      یہ میٹنگ صبح دس بجے شروع ہوگی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کوریڈور کے راستے پر یومیہ پانچ ہزار سکھ عقیدت مندوں کو ویزا فری سفر کی اجازت دے گا۔ گرودوارہ صاحب عقیدت مندوں کو کوریڈور کے ذریعہ گروپ یا انفرادی طور پر جانے کی اجازت دے گا۔

      Kartarpur

      ذرائع کے مطابق دونوں ممالک معاہدہ کے مسودہ پر 80 فیصد تک اتفاق کر چکے ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور صاحب پر پہلی اعلی سطحی میٹنگ اس سال مارچ میں ہوئی تھی جبکہ دوسرے دور کی بات چیت 14 جولائی کو ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اس سال دونوں ممالک کے اعلی سطحی وفود اور تکنیکی ماہرین کی چار بار ملاقات ہو چکی ہے۔آخری میٹنگ جمعہ کو زیرو پوائنٹ پر ہوئی تھی۔

      کرتارپور کوریڈور سکھوں کے پہلے گرو گرنانك دیو کی 550 ویں یوم پیدائش پر نومبر میں کھولے جانے کی تجویز ہے۔ ہندوستان کے جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ خاتمہ اور آرٹیکل 370 کے التزام ختم کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے باوجود کرتارپور کوریڈور پہلے سے مقرر ہ پروگرام کے تحت کھولے جانے کا امکان ہے۔
      First published: