ہندوستان نے پاکستان اورچین کے بیان کو کیا مسترد، کشمیرکوبتایا اٹوٹ حصہ

اس سے قبل پاکستان اورچین نے اتوارکوکشمیرموضوع پرتبادلہ خیال کیا اور باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعہ علاقے میں تنازعات کے حل کی ضرورت پرزوردیا تھا۔

Sep 10, 2019 04:45 PM IST | Updated on: Sep 10, 2019 05:03 PM IST
ہندوستان نے پاکستان اورچین کے بیان کو کیا مسترد، کشمیرکوبتایا اٹوٹ حصہ

ہندوستان نے پاکستان اورچین کے مشترکہ بیان کوکیا مسترد

جموں وکشمیرپرچین اورپاکستان کےمشترکہ بیان کو ہندوستان نےمسترد کردیا ہے۔ ہندوستان نےایک بارپھرسےدوہرایا ہےکہ کشمیرہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس سےقبل پاکستان اور چین نےاتوارکوکشمیرموضوع پرتبادلہ خیال کیا اورباہمی احترام اورمساوات کی بنیاد پربات چیت کےذریعہ خطے میں تنازعات کےحل کی ضرورت پرزوردیا تھا۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کےترجمان رویش کمارنےکہا 'ہم چین کےوزیرخارجہ کےحالیہ پاکستان سفرکےبعد چین اورپاکستان کےذریعہ جموں وکشمیرکےضمن میں جاری مشترکہ بیان کوقبول نہیں کرتے ہیں۔ جموں وکشمیرہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے'۔ انہوں نےکہا 'دوسری طرف چین اورپاکستان دونوں کے مبینہ طورپر'چین پاکستان اکنامکس کاریڈور' (سی پی ای سی) منصوبوں پرہندوستان نےمسلسل فکرمندی کا اظہارکیا ہے۔ یہ منصوبے ہندوستان کے علاقے میں چل رہے ہیں، جس پرپاکستان نے1947 سےغیرقانونی طریقےسےقبضہ کررکھا ہے'۔

Loading...

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار

چین کے وزیرخارجہ نے کہی تھی یہ بات 

چین کےوزیرخارجہ وانگ یی نےدودن کےاپنے پاکستان کےسفرکےاختتام کےموقع پرجاری ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نےزوردیا تھا کہ کسی بھی علاقائی یا بین الاقوامی حالات میں ان کا سیاسی اتحاد قائم رہےگا۔ وانگ یی کا پاکستان کا سفراس وقت ہوا ہے، جب ہندوستان کےذریعہ گزشتہ پانچ اگست کوجموں وکشمیرکا خصوصی درجہ ختم کرنےکےسبب ہندوستان اورپاکستان کےدرمیان کشیدگی کا ماحول ہے۔

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ یی۔

دونوں فریق نےکہا تھا کہ ایک پرامن ، مستحکم اورخوشحال جنوبی ایشیا سبھی فریق کےمفاد میں ہے۔ ہندوستان نےبین الاقوامی طبقےسے واضح طورپرکہا تھا کہ دفعہ 370 کوہٹایا جانا اس کا داخلی معاملہ تھا اورساتھ ہی پاکستان کواس سچائی کوقبول کرنےکا مشورہ بھی دیا تھا۔

Loading...