یواین ایچ آرسی میں ہندوستان کا جواب- جموں وکشمیرپرپاکستان کی مداخلت کونہیں کریں گے برداشت

یواین ایچ آرسی میں ایم ای اے کےپہلےسکریٹری ومرش آرین نےکہا کہ دفعہ 370 ہندوستانی آئین کا ایک عارضی التزام تھا، اس کی حالیہ ترمیم ہماری خود مختاراتھارٹی کےاندرہےاورپوری طرح سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔

Sep 11, 2019 12:05 AM IST | Updated on: Sep 11, 2019 12:07 AM IST
یواین ایچ آرسی میں ہندوستان کا جواب- جموں وکشمیرپرپاکستان کی مداخلت کونہیں کریں گے برداشت

ہندوستان نےکہا کہ جموں وکشمیرپر پاکستان کے دخل کونہیں کریں گے برداشت

جنیوا: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایچ آرسی) میں ہندوستان نے پاکستان کے الزامات کی تردید کرتےہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ہندوستان پرجھوٹے الزامات عائد کئے ہیں۔ ہندوستانی حکومت جموں وکشمیرکی ترقی کے لئے کام کررہی ہے۔ ہم سرحد پار دہشت گردی کی مارجھیل رہے ہیں۔ یواین ایچ آرسی میں ایم ای اے کے پہلے سکریٹری ومرش آرین نے کہا کہ دفعہ 370 ہندوستانی آئین کا ایک عارضی التزام تھا، اس کی حالیہ ترمیم ہماری خود مختاراتھارٹی کے اندرہے اورپوری طرح سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ یواین ایچ آرسی میں ومرش آرین نے کہا کہ پاکستان فورم کی پولرائزیشن کرنےکی کوشش کررہا ہے۔

یہ پوری طرح سے داخلی معاملہ

Loading...

یواین ایچ آرسی میں ایم ای اے کےپہلے سکریٹری ومرش آرین نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہندوستانی آئین کا ایک عارضی التزام تھا، اس کی حالیہ ترمیم ہمارے خود مختار حقوق کے اندرہےاورپوری طرح سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ومرش آرین نے کہا کہ پاکستان نے جموں وکشمیرمیں ہمیشہ جہاد کوفروغ دیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ جموں وکشمیرمیں پاکستان کے دخل کوہندوستان برداشت نہیں کرے گا۔

تشدد بڑھانےکےلئےجہاد کوفروغ دے رہا ہے پاک

ومرش آرین نے کہا کہ کچھ پاکستانی لیڈراتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر اور تیسرے ممالک میں تشدد بڑھانے کے لئے جہاد کوفروغ دے رہے ہیں تاکہ اسے جنگ کا نام دیا جاسکے، وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ حقیقت سے بہت دورہے۔ ومرش آرین نے کہا کہ پاکستان کا پرتشدد ریکارڈ خود اس کے بارے میں گواہی دیتا ہے۔ یہ بیان بازی پاکستان کے مذہبی اور نسلی اقلیتی گروپ چاہے وہ عیسائی، سکھ، شیعہ، احمدیہ اورہندو ہوں کے تشدد اورخاتمہ  کے ذریعہ دنیا کی توجہ نہیں ہٹائے گی۔ ومرش آرین نے کہا کہ جیسا کہ اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کا تعلق ہے، ہندوستان کے داخلی معاملوں پرتبصرہ کرنے کا پاکستان کے پاس کوئی حقوق نہیں ہیں۔

Loading...