உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یو این میں ہندوستان نے پاکستان کو پھر دکھایا آئینہ، اسامہ بن لادن پر عمران خان کو ایسے گھیرا

    یو این میں ہندوستان نے پاکستان کو پھر دکھایا آئینہ، اسامہ بن لادن پر عمران خان کو ایسے گھیرا

    یو این میں ہندوستان نے پاکستان کو پھر دکھایا آئینہ، اسامہ بن لادن پر عمران خان کو ایسے گھیرا

    ہندوستان نے کہا، ’عالمی دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کے اصولوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے پڑوسیوں کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں شامل رہا ہے۔ اسٹیج پر جھوٹ پھیلانے کی پاکستان کی کوششیں اجتماعی حقارت کی مستحق ہیں۔

    • Share this:
      نیویارک: اقوام متحدہ (United Nations) میں ہندوستان (India) نے رائٹ ٹو رپلائی کے تحت فرسٹ کمیٹی جنرل ڈبیٹ میں ایک بار پھر پاکستان (Pakistan) کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ہندوستان نے کہا، ’پاکستان کے مستقل نمائندہ تو یہاں امن، تحفظ کی بات کرتے ہیں جبکہ ان کے وزیر اعظم اسامہ بن لادن جیسے عالمی دہشت گردوں کو شہید کے طور پر پیش کرتے ہیں‘۔

      ہندوستان نے کہا، ’عالمی دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کے اصولوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے پڑوسیوں کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں شامل رہا ہے۔ اسٹیج پر جھوٹ پھیلانے کی پاکستان کی کوششیں اجتماعی حقارت کی مستحق ہیں۔



      اس سے قبل اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کے رائٹ ٹو رپلائی میں ہندوستان نے کہا تھا کہ پاکستان کھلے طور پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور انہیں ہتھیار دینے کے لئے عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ذریعہ پابندیوں کا سامنا کر رہے مبینہ دہشت گردوں کی سب سے بڑی تعداد کی میزبانی کرنے کا شرمناک ریکارڈ ہے۔ ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری اسنیہا دوبے کے اس جواب کی کافی چرچا ہوئی تھی۔

      انہوں نے پاکستان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ جموں وکشمیر اور لداخ کا پورا مرکزی علاقہ ہندوستان کا ایک لازمی حصہ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ اس میں وہ بھی علاقے شامل ہیں، جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے اس کے غیر قانونی قبضے والے سبھی علاقوں کو فوراً خالی کرنے کے لئے کہا تھا۔

      وزیر اعظم مودی نے بھی اقوام متحدہ میں لگائی تھی پاکستان کو لتاڑ

      اس سے پہلے وزیر اعظم مودی نے بھی اقوام متحدہ میں بغیر نام لئے پاکستان پر سخت حملہ بولا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'رجعت پسندانہ سوچ' والے جو ملک دہشت گردی کا ’سیاسی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، انہیں ضرور سمجھنا چاہئے کہ ان کے لئے بھی یہ 'اتنا ہی بڑا خطرہ' ہے۔ انہوں نے کہا، ’آج، رجعت پسندانہ سوچ کے بڑھتے خطرے اور انتہا پسندی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالاتم یں پوری دنیا کو ترقی کے لئے سائنس پر مبنی، منطقی اور ترقی پسند سوچ کی بنیاد ہونی چاہئے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: