ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کا الزام، ہندستان کم قیمت میں بیچ رہا ہے چاول، اس سے ہمیں ہو رہا ہے نقصان

پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندستان کے ذریعے کم قیمتوں میں چاول کے ایکسپورٹ (Rice Export) کی وجہ سے اس کا ایکسپورٹ کا دھندہ چوپٹ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے چاول انڈسٹری کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔

  • Share this:
پاکستان کا الزام، ہندستان کم قیمت میں بیچ رہا ہے چاول، اس سے ہمیں ہو رہا ہے نقصان
پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندستان کے ذریعے کم قیمتوں میں چاول کے ایکسپورٹ (Rice Export) کی وجہ سے اس کا ایکسپورٹ کا دھندہ چوپٹ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے چاول انڈسٹری کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔

اسلام آباد: چاول کے ایکسپورٹ کو لیکر ہندستان کے سامنے انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستان بری طرح سے پٹ گیا ہے۔ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندستان کے ذریعے کم قیمتوں میں چاول کے ایکسپورٹ (Rice Export) کی وجہ سے اس کا ایکسپورٹ کا دھندہ چوپٹ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے چاول انڈسٹری کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس نے ڈبلیو ٹی او (WTO) کے تحت ہندستان کی شکایت کرنے کی بھی بات کہی ہے۔ پاکستانی ویب سائٹ ڈان کے مطابق انٹرنیشنل مارکیت میں سبسڈی والا ہندستانی چاول پاکستان کے چاول ایکسوپرٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کے چاول تاجروں کے ایک سربراہ نے جمعرات کو کہا کہ عمران خان حکومت کو نئی دہلی کے خلاف (WTO) کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھانا چاہئے۔ ہندستان پر (WTO) کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ بتادیں کہ پاکستان کی جی ڈی پی مین چاول ایکسپورٹ کا کافی حصہ ہے۔


رپورٹ کے مطابق پاکستان کا (Rice Export) گزشتہ سال کے مقابلے کافی کم ہو گیا ہے۔ جولائی 2020 سے مئی 2021 کے دوران باسمتی اور موٹے چاول دونوں قسموں کے پاکستانی چاول ایکسوپرٹ گزشتہ سال کے موازنے میں 14 فیصد کم ہے۔ گزشتہ سال کی اس مدت کے دوران 3.87 ملین ٹن کے موازنہ میں اب تک پاکستان نے اس مالی سال میں 3.3 ملین ٹن چاول کا ایکسوپرٹ کیا ہے۔


رپورٹ میں کیا دعوی

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہندستان پاکستان کے مقابلے کافی کم قیمت پر دیگر ممالک کو چاول مہیا کرا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایکسپورٹ کم ہو گیا ہے۔ پاکستان کے چاول ایکسپورٹ ایسو سی ایشن (آر ای اے ہی) کے صدر عبدالقیوم پراچا نے کہا کہ ہندستان نے اپنے چاول کی پیشکش اوسطا 360 ڈالر فی ٹن کی شرح سے کی ہے جبکہ 450 ڈالر فی تن کی قیمت پر بیچ رہے ہیں۔ ہندستان سے تقریبا 100 ڈالر فی ٹن کے اس فرق نے ہمارے ایکسپورٹ کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔
کم قیمت پر چاول بیچنا جرم۔۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے پراچا نے کہا کہ (WTO) کے قوانین کے تحت ، بین الاقوامی بازاروں international market  میں سبسڈی والے فوڈ، خاص طور سے کم قیمت پر چاول بیچنا ایک طرح سے جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا، میانمار، نیپا، تھائی لینڈ ویتنام سبھی 420 ڈالر سے 430 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر چاول ایکسوپرٹ کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں، پھر بھارت 360 ڈالر فی ٹن پر کیسے چاول ایکسپورٹ کرنے کی پیشکش کر سکتا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ ہندستان نے اس سال باسمتی چاول کے سبھی ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور اب تک 4.3 ملین فی ٹن پر چاول کا ایکسپورٹ کیا ہے۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 28, 2021 11:03 AM IST