உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق UNSC کے ریزولیشن کے خلاف کیا ووٹ،کہا- ترقی پذیر ملکوں کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائیں گے

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے  مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی (TS Tirumurti)۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی (TS Tirumurti)۔

    ہندوستان کے مستقل نمائندے کہا، ’ ترقی یافتہ ملک اپنے وعدوں سے کافی پیچھے رہ گئے۔‘ انہوں نے کہا،’جب بھی کلائمٹ ایکشن اور کلائمٹ جسٹس کی بات آتی ہے، تو ہندوستان کسی سے پیچھے نہیں ہے۔

    • Share this:
      India Voted Against UNSC Draft Resolution: ہندوستان نے یو این ایس سی کے ایک ریزولیشن کے خلاف ووٹ کیا ہے۔ اس تجویز کے ذریعے کلائمٹ چینج سے نمٹنے سے متعلق اقدامات کو ’محفوظ‘ کرنے اور گلاسگو میں کڑی محنت سے کیے گئے اتفاقی سمجھوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کے کی وجہ سے ہندوستان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بات کی جانکاری اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مسقل نمائندے ٹی ایس تری مورتی (TS Tirumurti) نے دی ہے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کلائمٹ چینج کو لے کر کتنا سنجیدہ ہے اور ترقی پذیر ملکوں کے لئے اسے پوری طرح ختم کرنا کتنا مشکل ہے۔

      ہندوستان نے کہا کہ وہ ہمیشہ ترقی پذیر ملکوں کے مفاد کے لئے آوازاُٹھاتا رہے گا اور اس کے پاس مسودے کے خلاف ووٹ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ دراصل کلائمٹ چینج کو لے کر ترقی یافتہ ملک، ان ترقی پذیر ملکوں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کرتے ہیں، جو ابھی ترقی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں (India on Climate Change)۔ ٹی ایس ترومورتی نے کہا، ’ہندوستان کے پاس اس کے خلاف ووٹ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ ‘ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے مضبوط عزم کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور وہ ’ہمیشہ کلائمٹ چینج اور گمبھیر کلائمٹ جسٹس کی حمایت کرے گا۔‘

      ’صحیح جگہ پر آواز اٹھائیں گے‘
      ترومورتی نے کہا، ’ہم افریقہ اور ساحلی علاقے سمیت ترقی پذیر ملکوں کے مفاد کے لئے ہمیشہ آواز اُٹھائیں گے۔ اور ہم اسے صحیح جگہ پر یو این ایف سی سی سی (United Nations Framework Convention on Climate Change) میں کریں گے۔‘ انہوں ںے یہ بھی کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں کو جلد سے جلد ایک ٹریلین امریکی ڈالر کا کلائمٹ چینج فنڈ فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ کلائمٹ چینج فنڈ کو اُسی طرح ٹریک کیا جائے، جس طرح گرین ہاوس کے اخراجات کو کیا جاتا ہے۔

      ’وعدوں سے پیچھے رہے ترقی یافتہ ممالک‘
      ہندوستان کے مستقل نمائندے کہا، ’ ترقی یافتہ ملک اپنے وعدوں سے کافی پیچھے رہ گئے۔‘ انہوں نے کہا،’جب بھی کلائمٹ ایکشن اور کلائمٹ جسٹس کی بات آتی ہے، تو ہندوستان کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ (India in UN). لیکن یو این ایس سی ایسے کسی بھی ایشو پر بحث کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ حقیقت میں، ایسا کرنے کی کوشش مناسب فورم میں ذمہ داری سے بچنے کی خواہش سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔‘


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: