உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    US Court:امریکی’نائنتھ سرکٹ‘کی عدالت میں جج بنی ہندوستانی نژاد روپالی دیسائی، سینیٹ نے کی تصدیق

    ہندوستانی نژاد روپالی گانگولی بنی امریکی جج۔

    ہندوستانی نژاد روپالی گانگولی بنی امریکی جج۔

    US Court: دیسائی نے 2005 میں ایریزونا یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے۔ سینیٹر کرسٹن سینیما نے کہا کہ ایریزونا کو اس عہدے پر دیسائی کی تقرری کی تصدیق کرنے پر فخر ہے۔

    • Share this:
      US Court:امریکی سینیٹ (ایوان بالا) نے ہندوستانی نژاد امریکی وکیل روپالی ایچ دیسائی کی کورٹ آف اپیلز فار نائنتھ سرکٹ میں تقرری کی تصدیق کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اس طاقتور عدالت میں جج کے طور پر تعینات ہونے والی جنوبی ایشیائی نژاد پہلی جج بن گئی ہیں۔

      ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے 67 امریکی قانون سازوں نے دیسائی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 29 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ نائنتھ سرکٹ کا صدر دفتر سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں ہے۔ یہ ملک کی 13 اپیل عدالتوں میں سب سے بڑی عدالت ہے۔ سینیٹ کی جسٹس کمیٹی کے سربراہ اور اکثریتی وہپ ڈک ڈربن نے کہا کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ دیسائی کی نامزدگی کو سیاسی اور نظریاتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔ اس کے علاوہ، ریاستی ججوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور تین فائر سروس اداروں نے ان کی نامزدگی کی حمایت کی ہے۔ وکیل کے طور پر 16 سال کے تجربے کے ساتھ، دیسائی نویں سرکٹ میں غیر معمولی تعاون ادا کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Israel کے حملے میں مارا گیا حماس کمانڈر تیسیر الجابری، 5سالہ بچی بھی مہلوکین میں شامل

      Heineken: دنیا کی تاریخ کا پہلا جوتا! جس کے تلوے میں ہوگی بیئر، ڈچ کمپنی کاسب سے مہنگاجوتا

      یہ بھی پڑھیں:
      Synthetic Embryo: دنیا کا پہلا مصنوعی جنین تیار، اسرائیلی سائنسدانوں کا حیرت انگیز کارنامہ

      2007 سے کررہی ہیں وکالت
      روپالی دیسائی ’کاپ اسمتھ بروکیلمین‘ میں پارٹنر ہیں، جہاں وہ 2007 سے وکالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2005 سے 2006 تک نویں سرکٹ کے لیے یو ایس کورٹ آف اپیلز میں چیف جسٹس میری شروڈر کے 'قانون کلرک' کے طور پر خدمات انجام دیں۔ دیسائی نے 2005 میں ایریزونا یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے۔ سینیٹر کرسٹن سینیما نے کہا کہ ایریزونا کو اس عہدے پر دیسائی کی تقرری کی تصدیق کرنے پر فخر ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: