ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب اور یو اے ای کے دورے پر فوجی سربراہ نروانے، جانئے کیوں گھبرا رہا ہے پاکستان

پاکستان کے سعودی عرب اور یو اے ای سے رشتے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کشمیر معاملے پر دونوں ملکوں نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی اسلامی تعاون تنظیم کی میٹنگ بلائی۔ سعودی عرب نے پاکستان کی خراب مالی حالت کے باوجود قرض لوٹانے کو کہا تو یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کو نئے ویزا جاری کرنے پر روک لگا دی۔

  • Share this:
سعودی عرب اور یو اے ای کے دورے پر فوجی سربراہ نروانے، جانئے کیوں گھبرا رہا ہے پاکستان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی فائل فوٹو

ریاض/ ابو ظبی۔ ہندستانی فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے (Army chief General Naravane) کے سعودی عرب (Saudi Arabia) اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے دورے کو لے کر پاکستان (Pakistan) کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے رشتے بگڑنے کے بعد ہندستانی فوجی سربراہ کے اس دورے کے کئی مطلب نکالے جا رہے ہیں۔ یہ ہندستان کے کسی فوجی سربراہ کا ان دونوں ملکوں کا پہلا دورہ ہے۔ ہندستانی فوج کے مطابق، جنرل نروانے پہلے یو اے ای جائیں گے اور وہاں 12 دسمبر تک رکیں گے۔ ان کا سعودی عرب کا دورہ 13 اور 14 دسمبر کو ہو گا۔ اس دورے کے دوران وہ دونوں خلیجی ملکوں کی ملٹری کے سینئر افسروں سے ملاقات کریں گے۔ ان سے ہندستان کے ساتھ دفاعی رشتے مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہو گا۔


جنرل نروانے سعودی عرب کے رائل سعودی لینڈ فورس اور جوائنٹ فورس ہیڈکوارٹر جائیں گے۔ وہ کنگ عبدالعزیز ملٹری اکیڈمی کا دورہ کریں گے۔ سعودی عرب کے نیشن ڈیفنس یونیورسیٹی کے طلبہ اور فیکلٹی سے بھی فوجی سربراہ کی ملاقات ہو گی۔ ہندستان اور سعودی عرب کے رشتے بیتے کچھ سالوں میں اچھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے ہندستان کے ساتھ مل کر دفاعی آلات بنانے میں بھی دلچسپی دکھائی ہے۔ فوجی سربراہ وہاں کے افسروں سے اس مسئلہ پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب چین، امریکہ اور جاپان کے بعد ہندستان کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ ہندستان میں ایندھن سپلائی کرنے کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ ہندستان میں تقریبا 18 فیصد خام تیل کی درآمدات سعودی عرب سے ہی ہوتی ہے۔


پاکستان کیوں ہے پریشان


بتا دیں پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں کشمیر کو لے کر پڑی دراڑ ہر دن اور گہری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کو لے کر سعودی عرب کو چیلنج دے ڈالا تھا۔ قریشی کے تبصرے سے ناراض سعودی عرب کو منانے کے لئے پاکستان نے اپنے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوا کو بھی بھیجا تھا لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پاکستان کو اگلے مہینے سعودی عرب کو 2 ارب ڈالر کا قرض لوٹانا پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب اور یو اے ای سے رشتے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کشمیر معاملے پر دونوں ملکوں نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی اسلامی تعاون تنظیم کی میٹنگ بلائی۔ سعودی عرب نے پاکستان کی خراب مالی حالت کے باوجود قرض لوٹانے کو کہا تو یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کو نئے ویزا جاری کرنے پر روک لگا دی۔ پاکستان پر سعودی عرب کے  قرض کے علاوہ یو اے ای کے 2 ارب ڈالر کا بھی قرض ہے جسے اسے جلد لوٹانا پڑ سکتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 09, 2020 11:46 AM IST