ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین کی ہر سازش ناکام، ہندوستانی فوج نے ایل اے سی پر لگائے نئے کیمرے اور سینسر

سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے مشرقی لداخ (Ladakh) سے لے کر اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh) تک چین پر نظر بنائے رکھنے کے لئے کیمرے اور سینسر میں تبدیلیاں کی ہیں اور پہلے سے زیادہ تعداد میں انہیں لگایا گیا ہے۔

  • Share this:
چین کی ہر سازش ناکام، ہندوستانی فوج نے ایل اے سی پر لگائے نئے کیمرے اور سینسر
سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے مشرقی لداخ (Ladakh) سے لے کر اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh) تک چین پر نظر بنائے رکھنے کے لئے کیمرے اور سینسر میں تبدیلیاں کی ہیں اور پہلے سے زیادہ تعداد میں انہیں لگایا گیا ہے۔

نئی دہلی: گلوان وادی میں ہوئے تنازعہ کے بعد سے ہی ہندوستان-چین سرحد (India China Border) پر کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ اب ہندوستانی فوج نے چینی افواج کی سرگرمیوں پر نظر بنائے رکھنے کے لئے ایل اے سی (LAC) پر نئے کیمرے اور سینسر لگا دیئے ہیں۔ ہندوستانی سیکورٹی اہلکار دھیرے دھیرے (ایل اے سی) پر کیمروں اور سینسر کا ایک نیٹ ورک تیار کر رہے ہیں تاکہ چین (China) کی ہر ایک چال پر سخت نگرانی رکھی جاسکے۔ اب فوج نے کئی پرانے کیمروں کو ہٹاکر ہائی کوالٹی کے کیمرے لگائے ہیں۔


دھیرے دھیرے ہی صحیح لیکن حکومت اب ہر محاذ پر سرحد پر تعینات فوجیوں کو ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار کر رہی ہے۔ نئے اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ آپریشنل ایریا کو بھی نئے نئے آلات سے لیس کیا جارہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے مشرقی لداخ (Ladakh) سے لے کر اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh) تک چین پر نظر بنائے رکھنے کے لئے کیمرے اور سینسر میں تبدیلیاں کی ہیں اور پہلے سے زیادہ تعداد میں انہیں لگایا گیا ہے۔


ہائی ریزولیوشن کے کیمرے کافی دور کے علاقوں تک آسانی سے اپنی پکڑ بنا لیتے ہیں اور اس سے مخالفین اور دشمنوں کی سرگرمیوں کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ ان کیمروں کی مدد سے فوجیوں کو اب دشمن کی ہر سرگرمی کا آسانی سے پتہ لگ سکے گا اور سیکورٹی اہلکار پہلے سے ہی کسی مقام پر پہنچ سکیں گے۔


پارلیمانی کمیٹی کو بھی دی تھی اطلاع

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کیمروں اور سینسر سے تیار ہوا نیٹ ورک دور دراز اور پہاڑوں سے دور زمین پر بیٹھے کمانڈروں کو فوراً ایکشن لینے مین بھی مدد کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک تیار کرنے سے پہلے اس کی ضرورت کو لے کر پارلیمانی کمیٹی کو بھی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ چین کی حرکت پر نظر بنائے رکھنے کے لئے ملک کو ایک بڑے پیمانے پر کیمرے اور سینسر کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے سرحد میں کشیدگی کم کرنے کے لئے جاری بات چیت کے دور میں مستقبل میں چارڈنگ نالا علاقے کے موضوع کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ چین نے کچھ پہلے چارڈنگ نالا علاقے میں اپنے ٹینٹ لگا دیئے تھے اور ابھی بھی یہی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اب تک چین نے یہاں 10 کے آس پاس اپنے ٹینٹ لگا دیئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 27, 2021 07:33 AM IST