உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکی میگزین کا دعوی ، ہندوستانی فوٹو صحافی دانش صدیقی کا طالبان نے بے دردی سے کیا تھا قتل

    رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ صدیقی اس وقت زندہ تھے جب طالبان نے انہیں پکڑا ۔ طالبان نے صدیقی کی شناخت کی تصدیق کی اور پھر انہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کو بھی مارڈالا ۔ کمانڈر اور ان کی ٹیم کے دیگر اراکین کی موت ہوگئی ، کیونکہ انہوں نے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ۔

    رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ صدیقی اس وقت زندہ تھے جب طالبان نے انہیں پکڑا ۔ طالبان نے صدیقی کی شناخت کی تصدیق کی اور پھر انہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کو بھی مارڈالا ۔ کمانڈر اور ان کی ٹیم کے دیگر اراکین کی موت ہوگئی ، کیونکہ انہوں نے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ۔

    • Share this:
      واشنگٹن : پلتزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو صحافی دانش صدیقی نہ تو افغانستان میں گولہ باری میں پھنس کر مارے گئے اور نہ ہی ان کی ان واقعات کے دوران موت ہوگئی ، بلکہ طالبان کے ذریعہ ان کی شناخت کی تصدیق کرنے کے بعد ان کا بے 'دردی سے قتل' کیا گیا تھا ۔ امریکہ کی ایک میگیزن نے جمعرات کو شائع ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا ہے ۔ بتادیں کہ ایوارڈ یافتہ صحافی کی قندھار شہر کے اسپن بولڈک ضلع افغان فوج اور طالبان کے درمیان تصادم کو کوور کرتے ہوئے موت ہوگئی تھی ۔

      واشنگٹن ایگزامنر کی ایک رپورٹ کے مطابق صدیقی نے افغان نیشنل آرمی ٹیم کے ساتھ اسپن بولڈک علاقہ کا سفر کیا ۔ تاکہ پاکستان کے ساتھ متصل سرحدی کراسنگ پر کنٹرول کیلئے افغان فوج اور طالبان کے درمیان جاری جنگ کو کوور کیا جاسکے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے دوران صدیقی کو کچھ چھریں لگیں اور اس لئے وہ اور ان کے ٹیم کے لوگ ایک مقامی مسجد میں گئے ، جہاں ان کا ابتدائی علاج کیا گیا ۔ حالانکہ جیسے ہی یہ خبر پھیلی کے ایک صحافی مسجد میں ہے تو طالبان نے حملہ کردیا ۔ مقامی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ طالبان نے صدیقی کی موجودگی کی وجہ سے ہی مسجد پر حملہ کیا تھا ۔

      رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ صدیقی اس وقت زندہ تھے جب طالبان نے انہیں پکڑا ۔ طالبان نے صدیقی کی شناخت کی تصدیق کی اور پھر انہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کو بھی مارڈالا ۔ کمانڈر اور ان کی ٹیم کے دیگر اراکین کی موت ہوگئی ، کیونکہ انہوں نے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ۔

      امریکی انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں سینئر فیلو مائیکل روبین نے لکھا : بڑے پیمانے پر گردش کررہی ایک تصویر میں صدیقی کے چہرے کو پہچاننے کے قابل دکھایا گیا ہے ۔ حالانکہ ہندوستانی حکومت کے ذرائع کے ذریعہ مجھے دی گئی دیگر تصاویر اور صدیقی کی لاش کے ویڈیو کا میں نے جائزہ لیا ، جس میں نظر آیا کہ طالبان نے صدیقی کے سر پر حملہ کیا اور پھر انہیں گولیوں سے چھلنی کردیا ۔

      رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا حملہ کرنے ، صدیقی کو مارنے اور پھر ان کی لاش کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ اس بات کی عکاس کرتا ہے کہ وہ جنگ کے قوانین یا عالمی معاہدوں کا احترام نہیں کرتے ہیں ۔ صدیقی کی لاش 18 جولائی کو دہلی ہوائی اڈہ پر لائی گئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: