உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکی فوج کے ذریعہ افغانستان میں ہتھیار چھوڑ دینے سے ہندوستان کی تشویش میں اضافہ، پیدا کرسکتے ہیں مشکلات

    Afghanistan Crisis: افغان اہلکاروں کو دہائیوں سے مل رہی امریکی مدد اب ہندوستان سمیت بین الاقوامی گروپوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ خبریں آئی تھیں کہ امریکی فوج کے افغنستان چھوڑنے کے بعد کئی جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان طالبان (Taliban) کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

    Afghanistan Crisis: افغان اہلکاروں کو دہائیوں سے مل رہی امریکی مدد اب ہندوستان سمیت بین الاقوامی گروپوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ خبریں آئی تھیں کہ امریکی فوج کے افغنستان چھوڑنے کے بعد کئی جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان طالبان (Taliban) کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

    Afghanistan Crisis: افغان اہلکاروں کو دہائیوں سے مل رہی امریکی مدد اب ہندوستان سمیت بین الاقوامی گروپوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ خبریں آئی تھیں کہ امریکی فوج کے افغنستان چھوڑنے کے بعد کئی جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان طالبان (Taliban) کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان میں تقریباً 20 سالوں کے بعد امریکی ’دور‘ کا خاتمہ ہوگیا۔ امریکی فوجیوں (US Troops) کی آخری ٹکڑی بھی کابل چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ ایسے میں افغان اہلکاروں کو دہائیوں سے مل رہی امریکی مدد اب ہندوستان سمیت بین الاقوامی گروپوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ خبریں آئی تھیں کہ امریکی فوج کے افغنستان چھوڑنے کے بعد کئی جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان طالبان (Taliban) کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

      موجودہ حالات دیکھیں، تو چین کو ریورس انجیئنرنگ کا ماسٹر مانا جاتا ہے۔ فائٹر ایئرکرافٹ سے لے کر ایئر کرافٹ کیریئر تک، ٹینک سے لے کر یواے وی تک سبھی دوسرے ممالک کی تکنیک چراکر چین دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا تمغہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکی ہتھیاروں کی تکنیک کے لئے چین کی لمبی جدوجہد اب ختم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ چین کے انٹرنیٹ ہیکر پوری دنیا کے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں تکنیک ہیکنگ کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں، لیکن اب افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اب چین کو امریکی تکنیک حاصل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

      افغانستان میں گزشتہ بیس سال کے آپریشن میں امریکہ نے افغانستان کو اربوں ڈالر کے ہتھیار دیئے، جس کے ذریعہ افغانی اہلکار القاعدہ اور طالبان ے ساتھ جنگ لڑتے رہے۔ امریکی انتظامیہ کے فوجیوں کے افغانستان سے باہر نکلنے کے فیصلے کے بعد ان ہتھیاروں کو افغانستان کی فوج استعمال میں لانے والی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور افغانستان کی فوج نے چند روز میں ہی طالبان کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اور امریکہ کے سب سے جدید ہتھیار طالبان کے ہاتھوں لگ گئے۔ امریکہ ریپبلکن پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے جو دعوے کئے، اس نے پوری دنیا کے ہوش اڑا دیئے۔

      اربوں ڈالر کے جدید ہتھیار طالبان کے ہاتھ

      امریکہ، افغانستان سے جاتے وقت لاکھوں کی تعداد میں ہتھیار اور سازوسامان چھوڑ گئے۔ جن میں ہموی، ٹیکٹیکل وہیکل، آرمڈ وہیکل سمیت 85 ہزارسے زیادہ گاڑیاں ہیں۔ ساتھ ہی 200 سے زیادہ ایئر کرافٹ ہیں، جن میں ہیلی کاپٹر، ٹرانسپورٹ، اٹیک سرویلانس طیارے شامل ہیں۔ رائفل، مشین گن، پسٹل، گرینیڈ لانچر اور آر پی جی جیسے 6 لاکھ سے زیادہ تو چھوٹے ہتھیار ہیں۔ اس کے علاوہ جاسوسی سازوسامن، ریڈیو سسٹم، ڈرون نائٹ وزن گوگلس بھی ان سب میں شامل ہیں۔ ایسے میں چین اپنی سہولت کے لحاظ سے جو بھی چاہے ہتھیار، ایئر کرافتٹ اور دیگر سازوسامان حاصل کرسکتا ہے۔ یہ امریکہ کے لئے بھی سب سے تشویش کی بات ہے اور ہندوستان کے لئے بھی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

      چین کی چوری کی عادت سے امریکہ بھی واقف

      امریکہ بھی چین کی اس مہارت سے بخوبی واقف تھا اور یہی وجہ تھی کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے والے آپریشن کے دوران نیوی سیل کا ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا تھا، چونکہ بلیک ہاک کی تکنیک پاکستان کے ذریعہ چین تک نہ پہنچ جائے، اسی وجہ سے اس کریش ہیلی کاپٹر کو برباد کردیا، لیکن اب وہی سپر سیکریٹ اسٹیلتھ بلیک ہیلی کاپٹر اڑتے حالات میں یا پھر اس کے کل پرزے چین کو آسانی سے مل سکتے ہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: