உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’ہندوستان کاسب سےمطلوب دہشت گردمسعود اظہرافغانستان میں نہیں، پاکستان جھوٹےدعوےنہ کریں‘: طالبان

    مسعود اظہر  (فائل فوٹو)

    مسعود اظہر (فائل فوٹو)

    سہیل شاہین (Suhail Shaheen) نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر (Maulana Masood Azhar) کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ انھوں نے مسعود اظہر کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا کہ بغیر ثبوت کے ایسے دعوے نہ کرے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaAfghanistanAfghanistanAfghanistan
    • Share this:
      سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایک خصوصی ٹیلی فونک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان اور طالبان کی اہم شخصیت سہیل شاہین (Suhail Shaheen) نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر (Maulana Masood Azhar) کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ انھوں نے مسعود اظہر کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا کہ بغیر ثبوت کے ایسے دعوے نہ کرے۔

      سہیل شاہین نے کہا کہ ہم یقینی طور پر اس کی تلاش کریں گے۔ ہم اپنے اطمینان کے لیے اسے دیکھیں گے، لیکن وہ یہاں نہیں ہے۔ میں واضح طور پر تردید کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود اظہر کو 31 دسمبر 1999 کو انڈین ایئر لائنز کی پرواز آئی سی 814 کو ہائی جیک کرنے کے بعد ایک ہندوستانی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ جب کہ اسے فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

      ’’بغیر کسی ثبوت کے کوئی دعویٰ نہ کرے‘‘

      اس سے قبل پاکستان نے مسعود اظہر کی گرفتاری کے لیے افغانستان کو خط لکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد دہشت گرد اظہر، ہندوستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے۔ سہیل شاہین نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم پاکستان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے کوئی دعویٰ نہ کرے کیونکہ اس سے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ بغیر کسی ثبوت کے دعوے کسی مقصد کو پورا نہیں کرتے۔ ہمارے پاس اظہر کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

      ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ افغانستان کو ایسا خط لکھا گیا ہے۔ پہلا اس سال جنوری میں لکھا گیا تھا جب پاکستان نے وزارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ معاملہ اٹھایا تھا۔ دوسرا خط ایف اے ٹی ایف کے 28 اگست سے 3 ستمبر تک پاکستان کے دورے سے عین پہلے لکھا گیا تھا۔

      اعلیٰ ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے طالبان کے نام اپنے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ اظہر ممکنہ طور پر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں چھپا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ 'وہ ننگرہار اور کنڑ کے علاقوں میں ہو سکتا ہے، اس لیے اسے ڈھونڈا جائے، گرفتار کیا جائے اور انھیں (پاکستان کو) مطلع کیا جائے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان کا وہ کرکٹر جس کے کھیلنے پر پی سی بی نے لگادی پابندی، کیوں کرنا پڑا اتنا سخت فیصلہ؟

      ہندوستانی سرکاری عہدیداروں نے این این نیوز 18 کو بتایا کہ یہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے مینڈیٹ کی تعمیل کرنے اور بین الحکومتی تنظیم کی گرے لسٹ سے نکلنے کی پاکستان کی کوشش ہوسکتی ہے۔
      یہ بھی پڑھیں: 

      شاہین باغ بلڈوزر معاملے میں عارفہ خانم ایڈوکیٹ اور امانت اللہ خان کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت

      ایف اے ٹی ایف کے اکتوبر کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی امید ہے۔ لیکن اسے 34 نکاتی ٹاسک لسٹ کی تعمیل کرنی ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف ٹیم کو پاکستانی حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی ہے کہ اظہر پاکستان میں نہیں ہے کیونکہ وہ کافی عرصہ قبل افغانستان فرار ہوگیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: