ہند۔ بنگلہ دیش آراضی سمجھوتہ: آزادی کے 68 سال بعد ایک اور آزادی

نئی دہلی۔ ہندستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 162 انکلیو کی منتقلی کا سمجھوتہ آج نصف شب سے نافذ ہو گیا۔

Aug 01, 2015 07:44 AM IST | Updated on: Aug 01, 2015 05:29 PM IST
ہند۔ بنگلہ دیش آراضی سمجھوتہ: آزادی کے 68 سال بعد ایک اور آزادی

نئی دہلی۔ ہندستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 162 انکلیو کی منتقلی کا سمجھوتہ آج نصف شب سے نافذ ہو گیا۔ ہندوستان نے اسے 'تاریخی دن' بتایا ہے جس موقع پر اس پیچیدہ مسئلے کا حل ہوا جو آزادی کے بعد سے زیر التواء تھا۔

اس موقع پر کسی سرکاری پروگرام کا انعقاد نہیں کیا گیا لیکن 'ہند۔ بنگلہ دیش انکلیو ایکسچینج كوآرڈنیشن کمیٹی' نامی تنظیم نے کوچ بہار کے ماسل دانگا انکلیو میں آج رات ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ رات میں 12.01 بجتے ہی پر جوش لوگوں نے ہندوستان کا قومی پرچم لہرانا شروع کر دیا۔

Loading...

دہلی میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، '31 جولائی ہندستان اور بنگلہ دیش دونوں کے لئے تاریخی دن ہوگا۔ اس دن کو اس پیچیدہ مسئلے کا حل نکل آیا جو آزادی کے بعد سے زیر التواء تھا۔ ' ہندستان نے جہاں 51 انکلیو بنگلہ دیش کو منتقل کئے، وہیں پڑوسی ملک نے تقریباً 111 انکلیو ہندوستان کو سونپے ہیں۔

بنگلہ دیش اور ہندستان 1974کے ایل بی اے سمجھوتہ کو نافذ کریں گے اور ستمبر، 2011 کے پروٹوکول کو اگلے 11 ماہ میں مرحلہ وار طریقے سے لاگو کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے 6-7 جون، 2015 کے ڈھاکہ دورے کے وقت سرحدی آراضی معاہدے اور پروٹوکول کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

اب ہندستان اور بنگلہ دیش کے انکلیو میں رہنے والے لوگوں کو متعلقہ ملک کی شہریت اور شہری کو ملنے والی تمام سہولیات مل سکیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق، بنگلہ دیش میں ہندستانی انکلیو میں تقریبا 37,000 لوگ رہ رہے ہیں، وہیں ہندستان میں بنگلہ دیشی انکلیو میں 14000 لوگ رہتے ہیں۔

Loading...