اپنا ضلع منتخب کریں۔

    انڈونیشیا میں زلزلے کے بعد مہلوکین کی تعداد میں ہورہا مسلسل اضافہ، 310 ہوئی تعداد،24 زخمی

    انڈونیشیا میں زلزلے کے بعد مہلوکین کی تعداد میں ہورہا مسلسل اضافہ، 310 ہوئی تعداد،24 زخمی

    انڈونیشیا میں زلزلے کے بعد مہلوکین کی تعداد میں ہورہا مسلسل اضافہ، 310 ہوئی تعداد،24 زخمی

    اس زلزلے میں 56320 گھر تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔ دیگر نقصان زدہ عمارتوں میں 31 اسکول، 124 عبادتگاہ اور تین ہیلتھ سینٹر شامل ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Indonesia
    • Share this:
      انڈونیشیا کے مغربی جاوا صوبے کے سیانجور میں پیر کو آئے زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے جاوا میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 310 ہوگئی ہے، اور 24 لوگ لاپتہ ہیں۔

      سیانجور میں سب سے زیادہ تباہی
      سب سے زیادہ تباہی سیانجور قصبے میں ہوئی ہے جہاں زلزلے کے دوران تین منٹ تک عمارتیں ہلتی رہیں۔ سب سے زیادہ امواتیں بھی یہیں ہوئی ہیں۔ حالانکہ، مہلوکین کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ سیانجور سب سے زیادہ متاثر اس لیے ہوا، کیونکہ یہاں آبادی گنجان ہے۔ یہاں تودے کھسکنے کے واقعات عام ہیں۔ گھر زیادہ مضبوط نہیں بنائے جاتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      سعودی عرب میں طوفانی بارش سے 2 افرادہلاک، کئی کاریں بہہ گئی، بجلی منقطع، عوام میں افراتفری

      ایلون مسک کا دعویٰ-ٹوئٹر پر کم ہوگیا ہیٹ اسپیچ کا سیلاب، اندرون مہینہ 75 فیصدی کی آئی کمی

      یہ بھی پڑھیں:

      بلیک آؤٹ اور لوڈ شیڈنگ کو لے کر سڑکوں پر اُتری پاکستانی عوام،ووٹنگ کے بائیکاٹ کی دی دھمکی

      امریکہ-پاکستان تعلقات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہی یہ بڑی بات، جانیے کیا ہے معاملہ؟

      اس زلزلے میں 56،320 گھر تباہ
      انڈونیشیا میں آنے والے اس زلزلے میں 56320 گھر تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔ دیگر نقصان زدہ عمارتوں میں 31 اسکول، 124 عبادتگاہ اور تین ہیلتھ سینٹر شامل ہیں۔ انڈونیشیا کی سوہریانتو نے کہا کہ ایجنسی نے بے گھر افراد کے لیے سہولیات کے ساتھ 14 شیلٹرس بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے غیر مستقل کیمپوں کو چھوڑ کر ان اہم شیلٹرس میں چلے جائیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، سوہریانتو کے مطابق، بی این پی بی نے تلاشی اور بچاو مہم کے لیے 6000 سے زیادہ اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: