உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آخر انڈونیشیا میں کیوں ایک خاتون پر100 جبکہ مرد پر برسائے گئے 15 کوڑے؟ جانیے کیا ہے پورا معاملہ

    (فائل فوٹو)

    (فائل فوٹو)

    پراسیکیوٹر کے مطابق، نابالغ کے ساتھ جنسی تعلق بنانے کے قصوروار پائے گئے ایک دیگر شخص کو بھی جمعرات کو 100 مرتبہ کوڑے مارے گئے اور جرم کے لئے 75 مہینے جیل کی سزا بھی دی گئی۔ وہیں، سزا کے دوران بڑی تعداد میں لوگ بھی موجود رہے، جنہوں نے کیمروں میں اس واقعہ کو ریکارڈ کیا۔

    • Share this:
      آچے: انڈونیشیا (Indonesia)میں ایک شادی شدہ خاتون کو ناجائزہ جنسی تعلقات رکھنے کی بات قبول کرنےپر 100 مرتبہ کوڑے(Women flogged in indoensia) مارے گئے۔ وہیں، جس شخص کے ساتھ اُس کے ناجائز رشتے تھے، اُسے محض 15 کوڑے کھانے کی سزا دی گئی۔ یہ شخص بھی شادی شدہ تھا۔ یہ واقعہ جمعرات کو انڈونیشیا کے قدیم آچے صوبے میں پیش آیا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے رپورٹ کے مطابق، خاتون کو کوڑے مارنے کا کام کچھ وقت تک روکنا پڑا، کیونکہ اتنی مار کی وجہ سے وہ درد برداشت نہیں کرپارہی تھی۔ آچے صوبہ انڈونیشیا کا واحد ایسا علاقہ ہے، جہان پر شریعہ قانون (Sharia Law) لاگو ہے۔

      مشرقی آچے پراسیکیوٹر آفس میں جنرل انویسٹی گیشن ڈویژن کے سربراہ ایوان نجار علاوی نے کہا کہ خاتون نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ اس کے بعد عدالت نے شادی شدہ خاتون کو سخت سزا سنائی اور اُسے کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا۔ علاوی نے کہا کہ ججوں کو ملزم شخص کو قصوروار ٹھہرانے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اُس نے اس جرم میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ یہ شخص مشرقی آچے متسیہ ایجنسی کا سربراہ تھا اور خاتون کی طرح خود بھی شادی شدہ تھا۔

      ایک دیگر شخص کو بھی مارے گئے 100 کوڑے
      وہیں، ججوں نے ایک متبادل سزا کے طور پر شادی شدہ مرد کو ایک خاتون کے تئیں پیار ظاہر کرنے کا قصوروار پایا، کیونکہ وہ خاتون اُس کی بیوی نہیں تھی۔ شروعات میں شخص کو 30 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی لیکن آچے میں شریعہ سپریم کورٹ میں دائر اپیل پر سماعت کے بعد اُس کی سزا کم کر کے 15 کوڑے کردی گئی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق، نابالغ کے ساتھ جنسی تعلق بنانے کے قصوروار پائے گئے ایک دیگر شخص کو بھی جمعرات کو 100 مرتبہ کوڑے مارے گئے اور جرم کے لئے 75 مہینے جیل کی سزا بھی دی گئی۔ وہیں، سزا کے دوران بڑی تعداد میں لوگ بھی موجود رہے، جنہوں نے کیمروں میں اس واقعہ کو ریکارڈ کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: