உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sri Lanka Crisis:سری لنکا میں 21.5فیصد ہوئی افراط زر، کھانے پینے کی چیزیں ہوئی کافی مہنگی

    حد سے زیادہ مہنگائی سے سری لنکا میں عام آدمی بے بس۔

    حد سے زیادہ مہنگائی سے سری لنکا میں عام آدمی بے بس۔

    محکمہ مردم شماری و شماریات کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں انتہائی ضروری اشیائے خوردونوش چاول، چینی، دودھ اور روٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      کولمبو: Sri Lanka Crisis:سری لنکا کا مالی بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں مہنگائی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال مارچ میں وہاں افراط زر کی شرح بڑھ کر 21.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس درمیان، وزیر خزانہ علی صابری نے ملک کے لیے ریلیف پیکج پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے حکام سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات سری لنکا کو 4 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے کی گئی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ چند روز قبل سری لنکا کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی اس صورتحال سے خبردار کیا تھا۔

      17.5 فیصد سے بڑھ کر 21.5 فیصد ہوئی افراط زر
      سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس (NCPI) کے تحت سری لنکا کی ملک گیر افراط زر کی شرح فروری 2022 میں 17.5 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 21.5 فیصد ہو گئی۔ محکمہ مردم شماری و شماریات کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق اشیائے خوردونوش کی افراط زر بھی گزشتہ ماہ کے 24.7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 29.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Sri Lanka: ’سری لنکامیں صدارتی نظام کا خاتمہ ضروری‘ اپوزیشن نےآئینی ترمیم کی پیش کی تجویز

      چاول، چینی سمیت سبھی کی قیمتوں میں آیا اُچھال
      اسی طرح مارچ 2022 میں مہنگائی کی اوسط شرح بھی فروری کے مقابلے میں 9.3 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد ہوگئی ہے۔ حکومت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 29.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      بربادی کے راستے پر پاکستان، نئے وزیر اعظم شہباز شریف نے مانا- جلد سدھارنے ہوں گے حالات

      محکمہ مردم شماری و شماریات کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں انتہائی ضروری اشیائے خوردونوش چاول، چینی، دودھ اور روٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: