உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میزائل تجربہ : امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے ، ہلیری کا پابندی کامطالبہ ، کیری کی ظریف سے گفتگو

    واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی دعویداری پیش کرنے والی ہلیری کلنٹن نے آج کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے کئے گئے بیلسٹک میزائل کے تجربہ سے کافی فکر مند ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ایران کی اس کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

    واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی دعویداری پیش کرنے والی ہلیری کلنٹن نے آج کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے کئے گئے بیلسٹک میزائل کے تجربہ سے کافی فکر مند ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ایران کی اس کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

    واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی دعویداری پیش کرنے والی ہلیری کلنٹن نے آج کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے کئے گئے بیلسٹک میزائل کے تجربہ سے کافی فکر مند ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ایران کی اس کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی دعویداری پیش کرنے والی ہلیری کلنٹن نے آج کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے کئے گئے بیلسٹک میزائل کے تجربہ سے کافی فکر مند ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ایران کی اس کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘۔
      محترمہ کلنٹن نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے لئے ایران کو پابندیوں کا سامنا کرنا چاہئے اور بین الاقوامی برادری کو یہ دکھانا چاہیئے کہ وہ اسرائیل کو ایران سے ہونے والے خطرے کوبرداشت نہیں کرے گا‘۔ قبل ازیں آج مسلسل دوسرے دن ایران نے دو مزید میزائل تجربہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل اسرائیل تک حملہ کرنے کے قابل ہے۔
      دریں اثنا امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف سے بات کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بات کر کے اس ٹسٹ سے متعلق امریکی تشویش سے آگاہ کیا ۔
      قبل ازیں ایران نے اپنے میزائل تجربہ کے بارے میں کہا تھا کہ اسرائیل کے پیش نظر اس نے یہ میزائل تجربہ کیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو دو مزید بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ ایک روز قبل ایران نے متعدد میزائلوں کے تجربے کیے جس پر امریکہ نے ایران پر تنقید کی جبکہ تہران کا موقف ہے کہ یہ تجربات اس کی ’دفاعی صلاحیت ‘ کا اظہار ہے۔
      ایران کے میڈیا کے مطابق بدھ کو 1400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے قادر ایچ نامی دو میزائلوں کے تجربے کیے گئے۔ امریکہ کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کہنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ’مناسب ردعمل کی ضرورت پر زور دے گا‘۔
      ترجمان جان کربی نے کہا کہ ’ہم ایران کے میزائل پروگرام کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر اقدامات اٹھائیں گے‘۔ تاہم کربی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ میزائلوں کے ان تجربات کی ایران کے چھ ملکوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اس جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے اوپر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے عوض اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
      یہ معاہدہ ان تحفظات کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے پر کام کر رہا ہے جس کی ایران نے ہمیشہ تردید کی۔ اس معاہدے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک نئی قرارداد منظور کی جس میں ایران سے کہا گیا کہ وہ ’ایسے بیلسٹک میزائل کے پروگرام جو جوہری ہتھیار لے جا سکتے ہیں اور ایسی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ان کے تجربات ‘ نہیں کرے گا۔

      First published: