உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عراق میں کرد اپوزیشن پر ایران کی جانب سے حملے شروع، ایرانی حکومت نے نہیں کی تصدیق

    کریک ڈاؤن میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    کریک ڈاؤن میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایران کی حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد ایرانی کرد گروپ کئی دہائیوں سے شمالی عراق کے خود مختار کردستان علاقے میں مقیم ہیں۔ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران جنگی سرگرمیوں میں کافی کمی آئی ہے، وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہوتے رہتے ہیں

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaIran Iran
    • Share this:
      ایک ایرانی کرد اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران نے عراق کے شمال میں کرد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہفتے کے روز توپ خانے اور ڈرون حملے شروع کیے۔ یہ کاروائی سرحد پار حملوں میں 14 افراد کی ہلاکت کے چند دن بعد کی جارہی ہے۔ تہران نے عراق کے کردستان کے علاقے میں مقیم کرد مسلح گروپوں پر بدامنی اور لوگوں کو بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے جب سے ایک کرد مہسا امینی کی گزشتہ ماہ حراست میں موت ہو گئی تھی۔

      کومالا کے ایک اہلکار عطا ناصر نے کہا کہ ایرانی سرحد کے قریب ماؤنٹ ہلگرد کے علاقے میں جلاوطن ایرانی گروپ کوملا کے زیر استعمال اڈوں پر ایرانی فورسز نے توپ خانے سے فائر اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ناصر نے کہا کہ حملوں نے کچھ چوکیوں کو تباہ کر دیا، ہماری صفوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

      کرد حکام نے بتایا کہ بدھ کے روز تقریباً 70 میزائلوں اور کامیکاز ڈرون کے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہو گئے۔ عراقی کرد حکام نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں عام شہری ہیں۔ جمعرات کو ایک بیان میں گارڈز نے کہا کہ وہ ہمسایہ ملک عراق میں عقبی اڈوں پر حملے جاری رکھیں گے جب تک کرد باغیوں کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔

      انھوں نے کہا کہ ہم مرکزی حکومت اور عراق کے شمالی علاقے کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ ایک پڑوسی کے طور پر ایران کے تئیں اپنی ذمہ داریوں میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ 22 سالہ کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کی 16 ستمبر کو اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے اعلان کے بعد سے ایران میں مظاہروں کی ایک بڑی لہر دیکھی گئی ہے۔ کریک ڈاؤن میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      ایران کی حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد ایرانی کرد گروپ کئی دہائیوں سے شمالی عراق کے خود مختار کردستان علاقے میں مقیم ہیں۔ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران جنگی سرگرمیوں میں کافی کمی آئی ہے، وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہوتے رہتے ہیں، امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کی تصاویر کو گردش کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: