உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایک ہاتھ میں بیوی کا کٹا سر، دوسرے میں چاقو اور چہرے پر ہنسی، اس وائرل ویڈیو سے ہل گیا پورا ایران

    Iran Man Behead Wife: مقامی میڈیا کے مطابق مقتولہ جب شادی ہوئی تھی تو اس کی عمر صرف 12 سال تھی اور جب اس کا قتل ہوا تو اس کا تین سال کا بیٹا تھا۔

    Iran Man Behead Wife: مقامی میڈیا کے مطابق مقتولہ جب شادی ہوئی تھی تو اس کی عمر صرف 12 سال تھی اور جب اس کا قتل ہوا تو اس کا تین سال کا بیٹا تھا۔

    Iran Man Behead Wife: مقامی میڈیا کے مطابق مقتولہ جب شادی ہوئی تھی تو اس کی عمر صرف 12 سال تھی اور جب اس کا قتل ہوا تو اس کا تین سال کا بیٹا تھا۔

    • Share this:
      تہران۔ ایک شخص کی ایک وائرل ویڈیو جس نے اپنی مسخ شدہ جوان بیوی کے کٹے سر کو گلی میں دکھانے والے سنسنی خیز معاملے نے پورے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کا مبینہ طور پر کسی اور کے ساتھ معاشقہ چل رہا ہے تو اس نے اس واردات کو انجام دیا۔ ایران (Iran) کی IRNA نیوز ایجنسی کے مطابق، پولیس کو شبہ ہے کہ 17 سالہ مونا حیدری کو اس کے شوہر اور بہنوئی نے جنوب مغربی شہر اہواز (Southwestern City of Ahvaz) میں مار ڈالا تھا۔

      سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے مقامی پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر تک، حکام نے "ان کے ٹھکانے پر چھاپے کے دوران" دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس مسئلے کے بعد ایران میں خواتین ک جڑے مسائل کی نائب صدر انسیہ خزالی نے حکام سے پارلیمنٹ میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے "فوری اقدامات" کرنے اور بیداری پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔

      واقعے ایران کی عوام میں غصہ
      ایرانی اخبارات اور سوشل میڈیا پر قتل کو لیکر صدمے اور غصے کا ماحول دیکھا جا رہا ہے جس میں بہت سے لوگوں نے سماجی اور قانونی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ، "ایک انسان کا سر کاٹ دیا گیا تھا، اس کا سر سڑکوں پر دکھایا گیا تھا اور قاتل کو اس پر فخر تھا۔" وہیں یہ بھی کہا گیا کہ ہم ایسے سانحے کو کیسے قبول کر سکتے ہیں، ہمیں ایکشن لینا چاہیے تاکہ دوبارہ کسی خاتون کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

      خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ
      مشہور حقوق نسواں فلم ساز تہمینہ میلانی (Tahmineh Milani) نے انسٹاگرام پر لکھا، "مونا حیدری تباہ کن جہالت کا شکار تھیں۔ ہم سب اس جرم کے ذمہ دار ہیں۔" حیدری کے قتل کے بعد خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے قوانین میں اصلاحات اور شادی کی قانونی عمر بڑھانے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ اس وقت ایران میں شادی کی کم از کم عمر 13 سال ہے۔

      ایرانی میڈیا کے مطابق مقتولہ جب شادی ہوئی تھی تو اس کی عمر صرف 12 سال تھی اور جب اس کا قتل ہوا تو اس کا تین سال کا بیٹا تھا۔ وکیل علی مجتہد زادہ نے (Reformist Paper Shargh) میں "غیرت کے نام پر قتل کو فروغ دینے کیلئے "قانونی خامیوں" کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: