ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیوکلیائی معاہدہ : کاروبار بچانے کیلئے یوروپی سربراہوں کی کوششیں تیز، انجیلا مرکل کا پوتن سے رابطہ

ایران اور دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے درمیان نیوکلیائی معاہدہ کی تجدید سے امریکہ کے ہٹنے کے بعد اب معاہدہ میں شامل یوروپ کے دوسرے ممالک اس سمجھوتے کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے

  • UNI
  • Last Updated: May 12, 2018 12:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیوکلیائی معاہدہ : کاروبار بچانے کیلئے یوروپی سربراہوں کی کوششیں تیز، انجیلا مرکل کا پوتن سے رابطہ
انجیلا مرکل اور ولادیمیر پوتن ۔ فوٹو : رائٹر

بروسیلز/برلن: ایران اور دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے درمیان نیوکلیائی معاہدہ کی تجدید سے امریکہ کے ہٹنے کے بعد اب معاہدہ میں شامل یوروپ کے دوسرے ممالک اس سمجھوتے کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےجوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے بعد اس معاہدے کو بچانے کی سرتوڑ سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے روسی صدر ولاد یمیر پوتن سے رابطہ کیا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات کی ہے۔ان تمام ممالک میں سب سے شکایت فرانسیسی وزرا نے کی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر یوروپی کاروباروں پر پڑے گا۔جن چیزوں پر انھیں تشویش لاحق ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ معینہ مدتی معاہدہ ہے اور اس کا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں ایرانی اثر و رسوخ سے تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے 2015 میں ہونے والے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے، جو اگست اور نومبر میں نافذ کی جائیں گے۔اس معاہدے کے تحت ایران خود پر سے پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں جوہری سرگرمیاں کم کر دے گا۔

یہ معاہدہ امریکہ، تین یوروپی طاقتوں، روس اور چین کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے (جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے) سے روکنا تھا۔امریکہ کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک کو اب بھی یہ لگتا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کا یہی بہترین راستہ ہے۔یوروپی ممالک کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر امریکی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو انھیں اربوں ڈالرز کے کاروبار کا نقصان ہوگا۔

ایران اور یوروپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے درمیان تقریباً سو طیاروں کی فروخت کا معاہدہ بھی اس وقت خطرے میں ہے۔ ان طیاروں میں استعمال ہونے والے بعض آلات امریکہ میں بنتے ہیں۔بڑی فرانسیسی کمپنیاں جیسے کہ ’ٹوٹل ‘اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی’ پوژو‘ اور ’رینالٹ ‘نے بھی ایران میں سرمایہ کاری کی ہے۔ایران پر سے 2016 میں پابندیاں اٹھانے کے بعد سے جرمنی اور فرانس کی ایران میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

فرانس نے دوبارہ پابندیاں لگانے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔ معیشت کے وزیر نہ کہا ہے کہ یوروپ کو اپنی ’’معاشی سالمیت‘ ‘کا دفاع کرنا ہوگا۔انھوں نے یوروپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ جوابی اقدامات دیکھیں۔تاہم جرمنی اور فرانس کے وزرا امریکی محکمہ خزانہ سے بھی بات کر رہے ہیں تاکہ یوروپی کمپنیوں کو چھوٹ مل سکے۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسامئے نے امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے انھیں بتایا ہے کہ یوروپ اس معاہدے کے ساتھ ’پختہ اور مخلص‘ ہے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر پابندیاں کیسے اثرانداز ہوتی ہیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کی جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے اس معاہدے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ’ ’اسے جاری رکھنے کے بارے میں ہمیں ایران کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یک طرفہ طور پر معاہدے کو ختم کرنے سے عالمی سطح پر بھروسے کو نقصان پہنچے گا۔دوسری جانب ہفتے کے آغاز پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف چین، روس اور بروسیلز کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔جبکہ آئندہ منگل کو جرمنی، برطانیہ اور فرانس وزرا خارجہ آپس میں ملاقات کریں گے۔
First published: May 12, 2018 12:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading