உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایران میں حجاب کے خلاف مزید پرتشدد ہوئے مظاہرے، سڑکوں پر جلا دی جارہی ہیں گاڑیاں، کئی شہروں میں انٹرنیٹ خدمات بند

    ایران میں حجاب کے خلاف مزید پرتشدد ہوئے مظاہرے، سڑکوں پر جلا دی جارہی ہیں گاڑیاں، کئی شہروں میں انٹرنیٹ خدمات بند

    ایران میں حجاب کے خلاف مزید پرتشدد ہوئے مظاہرے، سڑکوں پر جلا دی جارہی ہیں گاڑیاں، کئی شہروں میں انٹرنیٹ خدمات بند

    Iran Protest: حجاب نہیں پہنے ہونے کی وجہ سے پولیس نے فیملی کے ساتھ تہران گھومنے آئی مہسا امینی کو حراست میں لیا تھا اور پھر اس کی موت ہوگئی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Srinagar | Hyderabad | Kerala
    • Share this:
      Iran Protest:مہسا امینی کی موت کے بعد ایران اب احتجاج کی آگ میں جلنے لگا ہے۔ حجاب کے خلاف ایران میں اب مظاہرے پرتشدد ہونے لگے ہیں۔ حجاب کو جلانے کی آگ ایران کے کئی شہروں کو جلاسکتی ہے۔ حجاب کے کلاف احتجاج اور جارحیت جاری ہے۔ پہلے خواتین حجاب جلا رہی تھیں اور اب لوگ ہنگامے کے ساتھ سڑک پر سرکاری جائیداد جلانے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔

      جانکاری کے مطابق، ایران کے کئی شہروں میں بڑھتے تشدد کو دیکھ کر انٹرنیٹ خدمات بند کردئیے گئے ہیں تا کہ لوگ افواہوں سے بچیں اور پرتشدد نہ ہوں۔

      ایران میں حجاب کے خلاف پرتشدد مظاہرے
      ایران میں کم و بیش ہر جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایک جگہ مظاہرین نکلے اور گارڈس سے ٹکرا گئے۔ مظاہرین نے گارڈز کو خوب مارا پیٹا۔ وہیں، دیوانداریہہ شہر میں 5 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ یہ ایران کے کرد علاقے کا وہ حصہ ہے جہاں حجاب کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اگر یہ مظاہرے اسی طرح بڑھتے رہے تو اس کا خمیازہ دہائیوں تک بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      برطانیہ کے لیسٹر میں فرقہ وارانہ تشدد، ہند و پاک میچ کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی، جانیےتفصیل

      یہ بھی پڑھیں:
      ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کیاخطاب، چھیڑا مسئلہ کشمیر

      ایران مخالفین کی سازش - صدر ابراہیم رئیسی
      ایران میں کئی مظاہرین کی گرفتاری کی بھی خبریں ہیں۔ اس درمیان ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے بھی مہسا امینی کے افراد خاندان کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے اور موت کی جانچ کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ صدر رئیسی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ ایران مخالفین کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ بتادیں کہ حجاب نہیں پہنے ہونے کی وجہ سے پولیس نے فیملی کے ساتھ تہران گھومنے آئی مہسا امینی کو حراست میں لیا تھا اور پھر اس کی موت ہوگئی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: