ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایران کے آئندہ صدر ابراہیم رئیسی نے کہا- امریکی پابندیاں ختم کروانے کی کوشش کروں گا

ترکی میڈیا کے مطابق ایران کے روحانی لیڈر لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ملک کے آئندہ صدر کے طور پر تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 04, 2021 11:38 AM IST
  • Share this:
ایران کے آئندہ صدر ابراہیم رئیسی نے کہا- امریکی پابندیاں ختم کروانے کی کوشش کروں گا
ابراہیم رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی، جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔

تہران: ایران کے روحانی لیڈر لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ملک کے آئندہ صدر کے طور پر تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اطلاع ترکی میڈیا نے دی ہے۔ ترکی میڈیا کے مطابق ایران کے روحانی لیڈر لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ملک کے آئندہ صدر کے طور پر تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ پیش رفت تہران میں آج منعقدہ ایک تقریب میں ہوئی اور اسی ہفتے جمعرات کو رئیسی پارلیمان میں حلف اٹھائیں گے اور باقاعدہ طور پر صدر کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔


آج منعقدہ تقریب میں رئیسی نے کہا کہ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کا دارومدار غیر ملکیوں کی خواہشات پر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ رئیسی کے لیے سب سے بڑا چیلج ڈگمگاتی ہوئی ایرانی معیشت کو سہارا دینا ہے۔ وہ سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی کو اعتدال پسندانہ طرز حکومت کی وجہ کئی مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔




ایران کے روحانی لیڈر لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ملک کے آئندہ صدر کے طور پر تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
ایران کے روحانی لیڈر لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کی ملک کے آئندہ صدر کے طور پر تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

ایران کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کون ہیں؟


ابراہیم رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی، جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔ اس کے بعد وہ 2004 سے 2014 تک تہران کے پراسیکیوٹر (Prosecutor of Tehran) اور چیف جسٹس آف جوڈیشری (First Deputy to the Head of Judiciary) کے پہلے نائب بن گئے، جس کے بعد وہ 2014 سے 2016 تک ایران کے پراسیکیوٹر جنرل بنے۔ سن 2019 میں ابراہیم رئیسی کو ایران کی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا، یہ تقرری ایران اور عراق جنگ کے بعد 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کی اجتماعی پھانسیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے خدشات کو جنم دینے والی تھی۔

ابراہیم رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی، جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔
ابراہیم رئیسی کو پہلی بار اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی، جب وہ 1980 میں کرج (Karaj) کے پراسیکیوٹر جنرل (Prosecutor General ) بنے، جب ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے ابراہیم رئیسی کو "ڈیتھ کمیشن" (death commission) کا رکن تسلیم کیا ہے، جس نے جولائی کے آخر اور ستمبر 1988 کے اوائل کے درمیان تہران کے قریب واقع اوین اور گوہرداشت جیلوں میں کئی ہزار سیاسی قیدیوں کو لاپتہ اور غیرقانونی طور پر پھانسی دی۔  رئیسی کے نیم فوجی گروپ اسلامی انقلابی گارڈ کور (Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC)) سے بھی تعلقات ہیں۔ آئی آر جی سی کی قدس فورس کے سابق انچارج قاسم سلیمانی (Qassem Soleimani) ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری امریکہ نے 2020 میں قبول کیا تھا۔ قدس فورس (Quds Force ) کو امریکہ نے سن 2019 میں ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم نامزد کیا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 04, 2021 11:28 AM IST