உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان اور پنجشیرفریقین بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کریں: ایران

    طالبان اور پنجشیرفریقین بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کریں: ایران

    طالبان اور پنجشیرفریقین بات چیت کے ذریعہ مسائل کو حل کریں: ایران

    ایران نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل کے شمال میں واقع پنجشیر صوبے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تصادم کرنے والے فریقین کو تنازعات کے حل کے لیے باہمی ڈائیلاگ کی راہ کو اپنانے کی اپیل کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      تہران: ایران نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل کے شمال میں واقع پنجشیر صوبے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تصادم کرنے والے فریقین کو تنازعات کے حل کے لیے باہمی ڈائیلاگ کی راہ کو اپنانے کی اپیل کی ہے۔ ترکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے دارالحکومت تہران میں منعقدہ پریس کانفرس میں طالبان کے پنجشیر علاقے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کی صورتحال باعث تشویش ہے۔


      دونوں فریقین کو بھائیوں کے قتل کا نتیجہ بننے والے حالات کی جازت نہیں دینی چاہیے۔ پنجشیر کے عوام فاقہ کشی کے شکار ہیں، ان کو پانی اور بجلی کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ طالبان بین الاقوامی قوانین کے دائرہ عمل میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں واحد حل افغانستان کے تمام تر فریقین کے درمیان ڈائیلاگ کا قیام اور جامع حکومت کے قیام پر مبنی ہے۔


      طالبان نے کیا حکومت بنانے کا اعلان


      طالبان نے افغانستان میں اپنی نئی حکومت (Taliban New Government) کا اعلان کردیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، نئی حکومت کے کاونسل کے سربراہ محمد اخند زادہ ہوں گے۔ اخند زادہ ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔ اس کے علاوہ عبدالغنی برادر ملک کے نائب وزیر اعظم ہوں گے۔ سراج الدین حقانی کو وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ ملا یعقوب وزیر دفاع بنائے گئے ہیں۔ حکومت کے دیگر عہدیداران کا اعلان بھی طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا ہے کہ یہ طالبان کی عبوری حکومت ہے، یعنی یہ حکومت صرف 6 ماہ کے لئے بنائی گئی ہے۔

      دراصل طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت سازی سے متعلق غوروخوض جاری تھا۔ تنظیم کے ترجمان سہیل شاہین نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا تھا کہ ہم حکومت میں سبھی کا تعاون چاہتے ہیں، اسی لئے دیر ہو رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے مانا جا رہا تھا کہ اب طالبان کی جانب سے کبھی بھی نئی حکومت کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: