உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Nuclear deal: امریکی تحقیقات کے خاتمے کے بغیر جوہری معاہدہ بے معنی، ایران نے کیا عالمی طاقتوں سے مطالبہ

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی (فائل فوٹو)

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی (فائل فوٹو)

    Nuclear deal: ایران اور چھ عالمی طاقتوں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے نرمی دی تھی۔ جس کے بعد سے ہی امریکہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح ایران پر دباؤ ڈالا جائے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, Indiairaniran
    • Share this:
      ایران کے صدر ابراہیم رئیسی (Ebrahim Raisi) نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنا اس وقت تک بے معنی ہو گا جب تک کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے ملک میں غیر اعلانیہ مقامات کی تحقیقات کو ختم نہیں کر دیتا۔ ابراہیم رئیسی کا مذکورہ تبصرے اس وقت سامنے آیا جب تہران تاریخی معاہدے کو بچانے کے لیے یورپی یونین کی جانب سے پیش کیے گئے حتمی متن پر اپنی تجاویز کے سلسلے میں امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔

      امریکہ اس بات پر اٹل رہا ہے کہ تہران تین غیر اعلانیہ مقامات پر پہلے کام کے بارے میں شکوک کو دور کرنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون کرے۔ رئیسی نے دارالحکومت تہران میں ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان مذاکرات میں حفاظتی امور بنیادی مسائل میں سے ایک ہیں۔ اس لیے حفاظتی امور کے تمام مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ تحفظات کے مسائل کو حل کیے بغیر معاہدے کے بارے میں بات کرنا بے معنی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے جوہری مواد کے مقامات کو حفاظتی اقدامات کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ ایران نے بارہا ایجنسی پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی بحال شدہ ڈیل پر عمل درآمد سے پہلے اس مسئلے کو ختم کردے، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے جمعرات کو کہا کہ ہم نہیں مانتے کہ ڈیل اور غیر اعلانیہ مقامات کے درمیان کوئی شرط ہونی چاہیے۔ کیونکہ جوہری ہتھیاروں سے انسانیت کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے جتنی جلد ممکن ہو نمٹنا ضروری ہے۔

      جون میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ قرار داد میں ایران کی سرزنش کی گئی تھی کہ تہران نے جوہری سرگرمیوں کی میزبانی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس دوران ایران تین مقامات پر یورینیم کی افزودگی کے آثار پائے گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      بلیک آؤٹ فٹ میں Akanksha Puri کی اب تک کی سب سے بولڈ تصویریں، میکا سنگھ نے یوں دیا ردعمل

      2015 کے معاہدے کے نفاذ کے بارے میں آئی اے ای اے کے رکن ممالک کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں گروسی نے پیر کو کہا کہ ایران نے نتنز میں حال ہی میں نصب کیے گئے تین سینٹری فیوج جھرنوں میں سے ایک میں یورینیم کی افزودگی شروع کر دی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Trade with Pakistan: پاکستان کے ساتھ تجارت ممکن نہیں! ’پہلےسرحدپاردہشت گردی کوکیاجائےختم‘

      ایران اور چھ عالمی طاقتوں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے نرمی دی تھی۔ جس کے بعد سے ہی امریکہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح ایران پر دباؤ ڈالا جائے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: