اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مہسا امینی کی موت کی خبرکومنظرعام پرلانے والی ایرانی صحافیوں کوسی آئی اےایجنٹ قراردیا گیا!

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیلوفر حمیدی نے صحافی ہونے کا بہانہ بنایا اور امینی کے اہل خانہ کو اپنی بیٹی کی موت کی اطلاع جاری کرنے پر مجبور کیا۔ مہسا امینی کی تصاویر شیئر کرکے نیلوفر حمیدی نے تہران میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا جو دوسرے ممالک میں پھیل گیا اور سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 234 مظاہرین مارے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیلوفر حمیدی نے صحافی ہونے کا بہانہ بنایا اور امینی کے اہل خانہ کو اپنی بیٹی کی موت کی اطلاع جاری کرنے پر مجبور کیا۔ مہسا امینی کی تصاویر شیئر کرکے نیلوفر حمیدی نے تہران میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا جو دوسرے ممالک میں پھیل گیا اور سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 234 مظاہرین مارے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیلوفر حمیدی نے صحافی ہونے کا بہانہ بنایا اور امینی کے اہل خانہ کو اپنی بیٹی کی موت کی اطلاع جاری کرنے پر مجبور کیا۔ مہسا امینی کی تصاویر شیئر کرکے نیلوفر حمیدی نے تہران میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا جو دوسرے ممالک میں پھیل گیا اور سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 234 مظاہرین مارے گئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • INTER, IndiaIRANIRAN
    • Share this:
      ایران میں مہسا امینی (Mahsa Amini) کی موت کی خبر بریک کرنے والے صحافیوں کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا گیا ہے۔ دو صحافیوں نیلوفر حمیدی اور الٰہی محمدی نے سب سے پہلے امینی کی موت کی اطلاع دی تھی۔ ایران مورالٹی پولیس کی حراست میں امینی کی موت ہوگئی۔ اسے صحیح طریقے سے حجاب نہ پہننے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ایران چھ ہفتوں سے جاری مظاہروں کی لپیٹ میں ہے جو اس وقت شروع ہوا جب 22 سالہ مہسا امینی کی تہران میں خواتین کے لیے لباس کے سخت قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتاری کے بعد 16 ستمبر کو حراست میں موت ہو گئی۔

      ایران کی وزارت انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس تنظیم کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں صحافی اس وقت ایران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں بند ہیں۔ ایرانی ایجنسیوں نے سی آئی اے، موساد اور دیگر مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس نے دونوں صحافیوں پر غیر ملکی میڈیا کے لیے خبروں کا بنیادی ذریعہ ہونے کا الزام بھی لگایا۔

      رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیلوفر حمیدی نے صحافی ہونے کا بہانہ بنایا اور امینی کے اہل خانہ کو اپنی بیٹی کی موت کی اطلاع جاری کرنے پر مجبور کیا۔ مہسا امینی کی تصاویر شیئر کرکے نیلوفر حمیدی نے تہران میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا جو دوسرے ممالک میں پھیل گیا اور سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 234 مظاہرین مارے گئے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      تاہم بیان میں صحافیوں کے بیرون ملک سفر کرنے اور جاسوسی ایجنسیوں سے تربیت حاصل کرنے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: