உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسرائیل اور امریکہ، ایران میں فسادات کرانا چاہتا ہے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں کے دوران کہی یہ بات

    تصویر Worldpak

    تصویر Worldpak

    خامنہ ای نے ایک تقریب میں افواج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ یہ فسادات اور عدم تحفظات امریکہ اور غاصب و جعلی صیہونی حکومت اسرائیل کا ایک منصوبہ ہے، ان کی طرف سے لوگوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے اور بیرون ملک کچھ غدار ایرانیوں نے ان کی مدد کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaIran
    • Share this:
      ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (Ayatollah Ali Khamenei) نے امریکہ اور اسرائیل کو دو ہفتوں سے زائد عرصے سے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے کر مظاہروں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور الزام لگایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل، ایران کی ترقی اور خوشحالی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خامنہ ای نے پیر کے روز حکومت مخالف مظاہروں کو فسادات سے تعبیر کیا۔ یہ مظاہرے ایران میں برسوں میں دیکھے جانے والے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ہیں۔

      83 سالہ مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے 16 ستمبر کو ایران کی مورالٹی پولیس کی حراست میں 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی (Mahsa Amini) کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔

      ''غدار ایرانیوں نے ان کی مدد کی''

      خامنہ ای نے ایک تقریب میں افواج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ یہ فسادات اور عدم تحفظات امریکہ اور غاصب و جعلی صیہونی حکومت اسرائیل کا ایک منصوبہ ہے، ان کی طرف سے لوگوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے اور بیرون ملک کچھ غدار ایرانیوں نے ان کی مدد کی ہے۔ تہران کی ایک پولیس یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا، جس کو پولیس، فوج اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سربراہان نے گھیر رکھا ہے۔

      انھوں نے کہا کہ جو حادثہ پیش آیا اس میں ایک خاتون چلی گئی، جس نے ہمیں بھی تکلیف پہجائی ہے لیکن اس پر بغیر کسی تحقیق کے فطری ردعمل نہیں تھا۔ جہاں کچھ لوگوں کو سڑکوں پر سرکاری املاک کو نقصان پہچانے، قرآن کو جلانے، حجاب والی خواتین کے حجاب اتارنے اور مساجد کو نذر آتش کرنے پر آمادہ کیا گیا، جس سے بتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو اس کے لیے اکسایا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      خامنہ ای نے کہا کہ اگر امینی کی موت نہ ہوتی تو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک اور بہانہ مل جاتا۔ ایران کے سپریم لیڈر نے استدلال کیا کہ بدامنی ملک کو اس پیشرفت سے روکنے کی کوشش تھی جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 2018 کے بعد سے سخت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ جب واشنگٹن نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ترک کر دیا تھا۔ انہیں لگتا ہے کہ ملک مکمل طاقت کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: