உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ISIS: داعش کوروکنےعراق اورامریکہ کی مشترکہ کوشش، دونوں ممالک سیکورٹی تعلقات کودیں گےفروغ

    امریکی صدر جو بائیڈن (فائل فوٹو)

    امریکی صدر جو بائیڈن (فائل فوٹو)

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے تحت مضبوط دوطرفہ شراکت داری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کی کہ آئی ایس آئی ایس کبھی دوبارہ سر اٹھا نہ سکے۔

    • Share this:
      امریکہ اور عراق نے ہفتے کے روز داعش کی ممکنہ واپسی کو ختم کرنے کے لیے سکیورٹی تعلقات بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا اعلان امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) اور عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی (Mustafa Al Kadhimi in Jeddah) کے درمیان جدہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا، جہاں سعودی عرب ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں امریکہ، جی سی سی ممالک، عراق، مصر اور اردن کے رہنما شریک ہوں گے۔

      بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے تحت مضبوط دوطرفہ شراکت داری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کی کہ آئی ایس آئی ایس کبھی دوبارہ سر اٹھا نہ سکے۔

      2008 میں دستخط کیے گئے معاہدے میں امریکہ اور عراق کے درمیان تعلقات کی بنیاد کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جہاں اس وقت تقریباً 2500 امریکی فوجی دوسرے ممالک کے کئی چھوٹے دستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ داعش کی شکست کے بعد داعش کی باقیات کے خلاف جاری لڑائی میں عراقی افواج کو تربیت دیں۔

      بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکہ اور عراق کے درمیان تعلقات عراق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام میں مشترکہ مفاد پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے مفاد کے لیے دوطرفہ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

      اس میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن اور الکاظمی نے سلامتی، خطے کو درپیش چیلنجز اور توانائی سمیت متعدد علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

      ایران سعودی مذاکرات:

      مزید پڑھیں:

      بائیڈن نے بغداد میں بات چیت کے لیے سعودی عرب اور ایران کو ساتھ لانے کے عراق کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے ایک محفوظ، زیادہ مستحکم خطے کے مفاد میں وزیر اعظم کی آگے کی سوچ والی سفارت کاری کی تعریف کی۔

      مزید پڑھیں:


      بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بغداد نے ایران اور سعودی حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پانچ دوروں کی میزبانی کی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: