ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس کا کیا سیکس لائف پر پڑ رہا ہے اثر ؟ ایکسپرٹس نے کہی یہ بڑی بات

یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا میں میڈیسن محکمہ کے ایکسپرٹ پروفیسر پال ہنٹر نے کہا کہ یہ ایک سانس سے پھیلنے والا انفیکشن ہے ، جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے ۔

  • Share this:
کورونا وائرس کا کیا سیکس لائف پر پڑ رہا ہے اثر ؟ ایکسپرٹس نے کہی یہ بڑی بات
کورونا وائرس کا کیا سیکس لائف پر پڑ رہا ہے اثر ؟ ایکسپرٹس نے کہی یہ بڑی بات

دنیا بھر میں پھیل چکا کورونا وائرس لوگوں کی ذاتی زندگی پر بھی اثر انداز ہورہا ہے ۔ اس سے بچنے کیلئے سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن پر سب سے زیادہ دھیان دینے پر ڈاکٹرس زور دے رہے ہیں ۔ لیکن ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر سیکس لائف کا کیا ہوگا ؟ ذہنی ڈپریشن میں جارہے لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا کورونا وائرس سے جنسی تعلقات پر بھی اثر پڑنے والا ہے ۔ کچھ سائنسدانوں نے لوگوں کے ذہن میں پیدا ہورہے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ باتیں کہی ہیں ۔


یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا میں میڈیسن محکمہ کے ایکسپرٹ پروفیسر پال ہنٹر نے کہا کہ یہ ایک سانس سے پھیلنے والا انفیکشن ہے ، جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے ۔ اگر آپ کو یا آپ کے پارٹنر کو کورونا نہیں ہے تو آپ لوگ اپنی سیکس لائف پہلے کی طرح ہی جی سکتے ہیں ، لیکن اگر دونوں میں سے کسی کی طبیعت خراب ہے ، تو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کسی شخص کو سردی ، کھانسی یا سانس لینے میں کوئی پریشانی ہورہی ہے تو اس کو سیلف آئسولیشن کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ انفیکشن جنسی تعلقات سے بھی پھیلتا ہے ۔


علامتی تصویر ۔
علامتی تصویر ۔


وہیں دوسری طرف نیویارک کے محکمہ صحت عامہ کے افسران نے جنسی تعلقات کو لے کر کہا ہے کہ جتنا ممکن ہوسکے دوری بناکر رکھیں ۔ انہوں نے اس کو لے کر ایک گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی کا بوسہ لیتے ہیں تو یہ ایک دوسرے میں آسانی سے منتقل ہوجائے گا ، اس لئے اپنے پارٹنر کے علاوہ کسی اور سے بھی جنسی تعلقات قائم کرنے بچنا چاہئے ۔

قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے معاملات بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔ پوری دنیا میں تین لاکھ سے زیادہ افراد اس کی زد میں آچکے ہیں اور ہزاروں کی موت بھی ہوچکی ہے ۔ اس عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کے تقریبا 35 ممالک لاک ڈاون ہیں ، جس کی وجہ سے معمولات زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔
First published: Mar 23, 2020 04:04 PM IST