اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جنگ کیلئے کم پڑ رہے روسی فوجی! افریقی طلبا کو جنگ میں اتارنے کا دباؤ، دی یہ دھمکی

    اب خبریں آ رہی ہیں کہ روس اب وہاں موجود افریقی طلباء پر جنگ میں جانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تو ان کی ٹیوشن فیس بڑھا دی جائے گی۔

    اب خبریں آ رہی ہیں کہ روس اب وہاں موجود افریقی طلباء پر جنگ میں جانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تو ان کی ٹیوشن فیس بڑھا دی جائے گی۔

    اب خبریں آ رہی ہیں کہ روس اب وہاں موجود افریقی طلباء پر جنگ میں جانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تو ان کی ٹیوشن فیس بڑھا دی جائے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Russia, Ukraine
    • Share this:
      Russia-Ukraine War: روس یوکرین جنگ ابھی تک جاری ہے۔ روس نے یوکرین کو تباہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ روس اب وہاں موجود افریقی طلباء پر جنگ میں جانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تو ان کی ٹیوشن فیس بڑھا دی جائے گی۔ نیوز ویب سائٹ دی ڈیلی بیسٹ نے 21 نومبر کو بتایا کہ گزشتہ تین مہینوں سے روس کی جنوبی یونیورسٹیوں کے افسران نے طلبا کو روسی فوج سے اپنے رینک میں شامل ہونے کی پیشکش کو قبول کرنے کیلئے راضی کرنے کی کوشش کی ہے۔
      ڈیلی بیسٹ کی رپورٹ کے مطابق روس کی یونیورسٹی آف دی ساؤتھ کے روسٹوو آن ڈان کے طلباء نے روس میں تعلیم حاصل کرنے والے افریقہ کے طلباء سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف لڑنے والے روس کے ویگنر گروپ کے کرائے کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں۔ یوکرین میں لڑنے کے خواہشمندوں سے $3,000 سے $5,000 تک کی تنخواہوں کا وعدہ کیاجبکہ پیشکشوں کو ٹھکرانے والوں کو اسکالرشپ کی رد کرنے اور ان کے ٹیوشن اخراجات میں اضافے کی دھمکی دی گئی۔

      کون ہے جینتی چوہان جنہوں نے 7 ہزار کروڑ کا بزنس چلانے سے کردیا انکار، جانئے یہاں



      50کروڑ WhatsApp یوزرس کے فون نمبر لیک، فہرست میں کہیں آپ کا نام بھی تو نہیں، چیک کریں


      روس میں نائجیریا کے کچھ طلباء نے دی ڈیلی بیسٹ کو بتایا، اسکول کے 3 افسران ہیں جو ان دنوں ہمارے ہاسٹل میں ہمارے پاس آ رہے ہیں اور ہمیں یوکرین کے لیے لڑنے کے لیے قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ وہ پیسے کمانے کا للاچ دے کر ایسا دباؤ بناتے ہیں اور اور طلباء کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ "افریقی پہلے سے ہی یوکرین میں لڑ رہے ہیں اور اچھے پیسے کما رہے ہیں۔"
      Published by:Sana Naeem
      First published: