உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا پوتن کو ہوگیا ہے نفسیاتی مرض؟ روسی صدر کے برتاو میں تبدیلی کو لے کر حیران کرنے والی میڈیا رپورٹس

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔

    برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ لارڈ ڈیوڈ اوون نے کہا تھا کہ پوتن اینابولک اسٹیرائڈز لے رہے ہیں، جو کسی شخص کی جارحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔

    • Share this:
      ماسکو: یوکرین پر حملے (یوکرین روس جنگ) کو لے کر روسی صدر ولادیمیر پوتن کو پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے کئی میڈیا گروپس نے یوکرین کے خلاف روس کے اس غصے کا ذمہ دار پوتن کے رویے میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔ ان میڈیا گروپس نے اس کے پیچھے کچھ دلیلیں بھی دی ہیں۔ تاہم ایسی تمام میڈیا رپورٹس کچھ نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔

      ان میں سے ایک رپورٹ میں صدر ولادیمیر پوتن کے غیر مستحکم رویے کے لئے اسٹیرائڈز کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، جو وہ پارکنسنز کی بیماری سے لڑنے کے لیے لے رہے ہیں۔ ان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پوتن کا جسم پہلے سے زیادہ پھولا ہوا نظر آرہا ہے اور ان کا چہرہ بیضوی ہے۔ وہ مہمانوں سے فاصلہ بناکر رکھتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:یوکرین کے صدر زیلنسکی نے پوتن کے ساتھ میٹنگ کی رکھی تجویز

      ڈیلی میل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پوتن ڈیمنشیا، پارکنسنز کی بیماری یا کینسر کے لیے اسٹیرائیڈ کا علاج لینے کی وجہ سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں ان کے فیصلے کرنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے۔

      اس سے قبل برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ لارڈ ڈیوڈ اوون نے کہا تھا کہ پوتن اینابولک اسٹیرائڈز لے رہے ہیں، جو کسی شخص کی جارحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ بی بی سی نیوز نائٹ پر گفتگو کے دوران، انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں ان کی امیونٹی سے سمجھوتہ کیا گیا ہے یا تو انہیں کسی اور بیماری کے لیے کارٹیکل اسٹیرائیڈز دیے گئے ہیں یا وہ اسٹیرائڈز پر ہیں جو آپ باڈی لفٹنگ اور ویٹ لفٹنگ کرنے والے لوگوں کو دیتے ہیں۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      میزائل والے واقعہ سے’خوفزدہ پاکستان،کہا-کورٹ آف انکوائری کافی نہیں،ہندوستان سے کی یہ اپیل

      ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے برطانوی خفیہ سروس کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈیئرلو نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن میں ’تحمل کی کمی‘ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ہم نہیں جانتے کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔ یہ پارکنسنز کی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: