உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں دراندازی کے لئے پاکستان کی نئی چال، حقانی نیٹ ورک کر رہا ہے آئی ایس آئی کی مدد

    افغانستان میں دراندازی کے لئے پاکستان کی نئی چال، حقانی نیٹ ورک کر رہا ہے آئی ایس آئی کی مدد

    افغانستان میں دراندازی کے لئے پاکستان کی نئی چال، حقانی نیٹ ورک کر رہا ہے آئی ایس آئی کی مدد

    Afghanistan Crisis:  آئی ایس آئی چیف کی کابل یاترا کے دوران طالبان کی لیڈر شپ سے ہوئی بات چیت کی ایکسکلوزیو ڈیٹیلس کے مطابق، حمید طالبان کی لیڈرشپ کے اردگرد حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کی موجودگی چاہتے ہیں تاکہ ان پرنظر رکھی جاسکے اور ضرورت کے مطابق ان کا استعمال کیا جاسکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید نے بڑے گیم پلان کے تحت طالبان کو کابل کے پریسیڈنشیل پیلیس سے افغانیوں کو ہٹانے کو کہا ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق، فیض حمید کو افغانیوں پر یقین نہیں ہے۔ حمید طالبان کی لیڈر شپ کے ارد گرد حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کی موجودگی چاہتے ہیں، تاکہ ان پرنظر رکھی جاسکے اور ضرورت کے مطابق، ان کا استعمال کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ بھی فیض حمید کی طالبان کی لیڈر شپ سے کئی موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے، جس کی ایکسکلوزیو جانکاری نیوز 18 کے پاس ہے۔

      فیض حمید نے ہی کابل پہنچ کر پنجشیر پر حملے کے لئے بھی ملا عبدالغنی برادر کو تیار کیا، جو حملے کے حق میں نہیں تھے۔ حقانی نیٹ ورک پنجشیر پر حملے کے حق میں تھا۔ فیض حمید نے ملا عبدالغنی برادر کو حملے کے لئے راضی کیا اور ساتھ ہی پاکستانی فوج کو بھیجنے کی بات کہی تھی۔ ساتھ ہی آئی ایس آئی سربراہ نے حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کو طالبان کی حکومت میں اہم عہدوں پر قابض کرنے کی بھی وکالت کی تھی، جس کا اثر طالبان کی نئی کابینہ پر واضح نظر آرہا ہے۔

      طالبان کی حکومت میں بڑی تعداد میں آئی ایس آئی کی کٹھ پتلیوں کو شامل کرانے کے مقصد سے کابل گئے آئی ایس آئی سربراہ نے طالبان سے اس کی فیوچر آرمی کے بارے میں بھی بات کی۔ فیض حمید نے طالبان کی آرمی میں زیادہ سے زیادہ پاکستان آرمی اور انٹلی جنس کے لوگوں کو شامل کرنے کی وکالت کی تاکہ ان کی دیکھ ریکھ میں طالبان کی فیوچر آرمی پروفیشنل آرمی بن سکے۔

      خفیہ ذرائع کے مطابق، آئی ایس آئی چیف نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کے ڈورنڈ لائن کے پار کے پاکستانی علاقے کی بھی بات کی، جو کبھی افغانستان کا حصہ رہ چکا ہے۔دوسرے اینگلو افغان جنگ کے بعد ایک معاہدہ کے تحت خیبر پختونخوا، FATA سمیت کچھ علاقوں کو افغانستان کو برٹش انڈیا کو سو سال کے لئے دینا پڑا تھا۔

      سال 1947 میں پاکستان بننے کے بعد یہ علاقے پاکستان کا حصہ ہوگئے۔ اب سو سال سے زیادہ کا وقت نکل چکا ہے اور اب واپس ان علاقوں پر افغانستان کا حق بنتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ مستقبل میں اگر کبھی حالات بدلے تو طالبان اس سے خیبر پختونخوا سمیت ان علاقوں کو واپس افغانستان کو دینے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ ایسے میں اس بابت پہلے ہی پاکستان کے حق میں معاہدہ کرکے معاملے کو ہمیشہ کے لئے سلجھا لیا جائے۔ افغانستان کے کاونٹر ٹیرر ایکسپرٹ اجمل سہیل کے مطابق واضح ہے کہ آئی ایس آئی طالبان کی حکومت پر اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعہ کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: