உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan News:پاکستان کے سرکاری ملازمین پر رہے گیISI کی نظر، وزیراعظم نے سونپی ذمہ داری، جانیے وجہ

    شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو سونپی یہ ذمہ داری۔

    شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو سونپی یہ ذمہ داری۔

    Pakistan News: پاکستانی طالبان کے نام سے مشہور ٹی ٹی پی، افغانستان-پاکستان کی سرحد پر کام کرنے والے مختلف اسلامی دہشت گرد گروہوں کی امبریلا تنظیم ہے۔ ٹی ٹی پی نے کہا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا۔

    • Share this:
      Pakistan News:پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو سرکاری افسران اور ملازمین کی تصدیق اور تفتیش کی ذمہ داری باضابطہ طور پر سونپ دی ہے۔ حالانکہ خفیہ ایجنسی ماضی میں بھی غیر رسمی طور پر یہ کام کرتی رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق، شہباز شریف نے تمام سرکاری دفاتر کے افسران کی تصدیق اور تفتیش کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو خصوصی تحقیقاتی ایجنسی (SVA) کے طور پر مطلع کیا ہے۔

      ترمیم کرنے کا حق
      اخبار ڈان کے مطابق بیوروکریسی کے لیے رولس بنانے یا اس میں ترمیم کرنے کا حق وزیر اعظم کے پاس ہے۔ فوج کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ کوئی بھی اہم ذمہ داری سونپنے سے پہلے حکومت متعلقہ افسر یا ملازم کے بارے میں آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو سے رپورٹ لیتی ہے۔

      ٹی ٹی پی و قبائلی لیڈروں میں جنگ بندی سمجھوتہ
      طالبان، جو افغانستان میں برسراقتدار ہیں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پاکستان کے تشدد سے متاثرہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی رہنماؤں کے درمیان تین ماہ کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ جمعہ کو کابل میں ٹی ٹی پی اور 53 رکنی قبائلی جرگہ (کونسل) کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے دوران طے پایا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      PLEASE بچوں کے علاج کیلئے دونوں کو ویزا دیں، پاکستانی والدین کی ہندستان سے گہار

      یہ بھی پڑھیں:
      Israel-Iran: اسرائیل-ایران تنازعہ کے درمیان ایک اور ایرانی کرنل کی موت

      دہشت گرد گروپوں کا امبریلا تنظیم ہے ٹی ٹی پی
      پاکستانی طالبان کے نام سے مشہور ٹی ٹی پی، افغانستان-پاکستان کی سرحد پر کام کرنے والے مختلف اسلامی دہشت گرد گروہوں کی امبریلا تنظیم ہے۔ ٹی ٹی پی نے کہا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: