ہوم » نیوز » عالمی منظر

داعش نے ہی میزائل سے اڑایا تھا روس کا ہوائی جہاز، ویڈیو جاری کر کے دیا ثبوت؟

نئی دہلی /قاہرہ : مصر میں روسی ائیربس کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد اب کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔کیا عراق اور شام میں سرگرم دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد تنظیم داعش کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑتے طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Nov 01, 2015 09:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش نے ہی میزائل سے اڑایا تھا روس کا ہوائی جہاز، ویڈیو جاری کر کے دیا ثبوت؟
نئی دہلی /قاہرہ : مصر میں روسی ائیربس کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد اب کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔کیا عراق اور شام میں سرگرم دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد تنظیم داعش کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑتے طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

نئی دہلی /قاہرہ : مصر میں روسی ائیربس کے حادثے کا شکار ہونے کے بعد اب کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔کیا عراق اور شام میں سرگرم دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد تنظیم داعش کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑتے طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ دراصل طیارے کے حادثے کے بعد داعش نے ایک ویڈیو بھی جاری کیا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ اس ویڈیو میں روسی طیارے کے آخری چند لمحات قید ہیں۔


تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے کہ ایک ہوائی جہاز آسمان میں اڑتے ہوئے آگ کے گولے میں بدل جاتا ہے اور پھر وہ زمین پر گرتا ہے اور دھوئیں کے بڑے گولے میں بدل جاتا ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ جو ہوائی جہاز اس میں دکھائی دے رہا ہے وہ حادثے کا شکار ہوا روسي طیارہ ہی ہے۔ اس ویڈیو کی جانچ کی جا رہی ہے۔ لیکن اگر یہ ویڈیو صحیح ہے تو دنیا کے لئے ایک بڑے خطرے کی آہٹ ہے۔


قابل ذکر ہے کہ روس کا یہ طیارہ مصر کے شرم الشیخ سے روس کے لئے اڑا تھا۔ لیکن اڑنے کے ٹھیک 23 منٹ بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہو گیا ۔ طیارے میں 25 بچوں سمیت کل 224 افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد امارات، لفتهانسا اور ائیر فرانس نے اس علاقے میں اپنے طیاروں کی نقل و حرکت روک دی ہے۔


ان ایئر لائنز نے کہا ہے کہ جب تک حادثے کی وجہ سامنے نہیں آ جاتی وہ اپنے طیاروں کو اس علاقے میں نہیں اڑائیں گے۔ تاہم روس اور مصر دونوں ہی ملک اس دعوے کو مسترد کر رہے ہیں کہ اسلامی اسٹیٹ کے دہشت گردوں نے طیارے کو مار گرایا ہے۔ مصر حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گرد خواہ جو بھی دعوی کریں لیکن ان کی بات میں کوئی دم نہیں ہے۔


حکومت کے مطابق جب جہاز لاپتہ ہوا تو وہ 31 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ اتنی اونچائی پر پرواز کر رہے جہاز کو کندھے پر رکھ کر چلائی جانے والی میزائل سے مار گرانا ممکن نہیں ہے۔ سیکورٹی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اطلس کے جس علاقے میں حادثہ ہوا وہاں داعش کے دہشت گردوں کے پاس ایسی میزائل نہیں ہیں ، جو 31 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے جہاز کو گرا دیں۔


دراصل ایسی میزائل کو چلانے کے لئے کافی جدید ٹیکنالوجی کے لانچر اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیکورٹی ماہرین کے مطابق مصر میں داعش کے دہشت گردوں کے پاس ایسی ٹیکنالوجی پہنچنے کی ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہے۔


خیال رہے کہ مصر کے اطلس علاقے میں داعش کا نیٹ ورک بہت مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ توجہ دینے والی بات یہ بھی ہے کہ طیارے کا ملبہ 6 سے 8 کلو میٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے میں آسمان میں ہی دھماکہ ہوا۔ دھماکہ تكنيك خرابی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اور کسی میزائل کے حملے سے بھی۔


ظاہر ہے داعشکے دعوے کو سرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں مصر ی حکام کے مختلف بیانات نے تذبذب میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ حادثے کی تحقیقات کر رہی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے جہاز کو قریب کے ایئرپورٹ پر اترنے کو کہا گیا تھا۔ یعنی ممکن ہے کہ ہوائی جہاز نیچے اڑ رہا ہو اور نیچے اڑتے ہوئے وہ دہشت گردوں کے نشانے کی زد میں آ گیاہو۔


لیکن مصر کا سرکاری بیان ہے کہ طیارے سے کوئی ہنگامی پیغام نہیں ملا اور نہ ہی کسی خرابی کی ہی خبر تھی۔ ان مختلف بیانات کے درمیان روسی میڈیا میں چل رہے دو اور بیانات انتہائی اہم ہیں۔ وہیں روس کی حکومت نے کہا ہے کہ حادثے کے پیچھے انسانی بھول تو نہیں ہو سکتی کیونکہ پائلٹوں کو 3600 گھنٹے سے زیادہ طیارے اڑانے کا تجربہ تھا۔ جبکہ ایک پائلٹ کی بیوی نے بھی کہا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے طیارے کی خراب حالت کے بارے میں بتایا تھا۔


یعنی طیارہ حادثے کی جانچ کئی بیانات اور دعووں میں الجھتی چلی جا رہیہے۔ اگر حادثہ انسانی بھول اور تكنيك خرابی کی وجہ سے نہیں ہوا تو کیا داعش کا دعوی صحیح ہے۔

First published: Nov 01, 2015 09:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading