உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شامی (Syrian) جیل پر حملے کے بعد داعش کی واپسی کا خدشہ، 300 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع

    داعش عربی نام ’’الدولة الإسلامية في العراق والشام‘‘ کا مخفف ہے۔

    داعش عربی نام ’’الدولة الإسلامية في العراق والشام‘‘ کا مخفف ہے۔

    کردوں پر تازہ ترین حملہ منگل کو کیا گیا، جہاں کردوں کے تربیتی کیمپوں، پناہ گاہوں اور گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے والے علاقوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم کردستان کا خود مختار علاقہ عراق کے ساتھ علاقائی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔

    • Share this:
      شام اور عراق کی کئی ریاستوں میں داعش کی واپسی کا خوف مقامی لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔ امریکی حکومت کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ یعنی داعش نے گزشتہ تین ماہ کے دوران عراق میں 182 اور شام میں 19 حملے کیے ہیں۔ دہشت گرد گروپ داعش نے سال 2019 میں اپنے زوال کے بعد سے بڑا حملہ کیا جب اس نے اپنے وفاداروں کو آزاد کرنے کی کوشش میں شمال مشرقی شام میں ایک جیل پر حملہ کیا۔

      شامی آبزرویٹری (Syrian Observatory) کے مطابق کردوں (Kurdish) کے زیر کنٹرول شہر ہساکے (Hasakeh) میں غویران جیل پر حملے میں 300 سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔ اگرچہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اور کردوں (جنھیں امریکہ کی حمایت کی اطلاع ہے) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جیل پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، لیکن اس کے آس پاس کے علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔

      ماہرین کا کہنا ہے کہ مہلک حملوں کا آغاز شام، عراق اور کردستان میں طاقت کے خلا کی وجہ سے ہوا ہے۔ شمالی عراق اور مشرقی شام کے حکام اور رہائشیوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے عراقی، شامی، ایرانی اور کرد مسلح گروہوں کو داعش کے ممکنہ دوبارہ سر اٹھانے کی وجہ قرار دیا ہے جو عربی نام ’’الدولة الإسلامية في العراق والشام‘‘ کا مخفف ہے۔

      ماہرین نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ آئی ایس نے اپنے پرانے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا ہے جن میں کاروبار سے بھتہ خوری، کھانے پینے کے لیے گھروں پر چھاپے مارنے اور مقامی لوگوں سے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک چارلس لسٹر کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے کہا کہ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس نے کافی تعداد میں افرادی قوت کو برقرار رکھا ہے۔ ان کے پاس نسلی، سیاسی یا فرقہ وارانہ اور بھی بہت سے دراڑیں ہیں۔

      کردوں پر تازہ ترین حملہ منگل کو کیا گیا، جہاں کردوں کے تربیتی کیمپوں، پناہ گاہوں اور گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے والے علاقوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم کردستان کا خود مختار علاقہ عراق کے ساتھ علاقائی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: