உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسلامک اسٹیٹ نے موصل کے قریب قتل عام کیا

    علامتی تصویر: تصویر ٹوئٹر

    علامتی تصویر: تصویر ٹوئٹر

    جنیوا۔ عراق کے موصل شہر کے آس پاس اسلامک اسٹیٹ نے گزشتہ ہفتے بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کر دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      جنیوا۔ عراق کے موصل شہر کے آس پاس اسلامک اسٹیٹ نے گزشتہ ہفتے بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کر دیا اور اس کے دہشت گردوں نے نو افراد کو یرغمال بنا کر ان کا استعمال خود کی حفاظت کے لئے کوچ کے طور پر کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ بات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے دفتر کی ابتدائی جانچ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی تنظیم کے ترجمان روپرٹ کول بلے نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 20 اکتوبر کو عراق کی سیکورٹی فورسز نے تلول نصیر گاؤں سے 70 لاشیں برآمد کیں جن کے جسم پر گولیوں کے نشانات تھے۔ اس کے علاوہ اتوار کو موصل سے باہر ان 50 سابق پولیس افسران کی لاشیں برآمد کی گئیں، جنہیں پہلے اغوا کر لیا گیا تھا۔


      ترجمان نے بتایا کہ لوگوں کے مارے جانے کی رپورٹ مختلف ذرائع سے ملی ہیں، جن کی جانچ نہیں کی گئی ہے اس لئے انہیں ابتدائی رپورٹ سمجھا جانا چاہئے۔ موصل سے 45 کلومیٹر جنوب میں صفینہ گاؤں میں 15 افراد کی لاشیں ملیں جنہیں تشدد پھیلانے کے لئے دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔ ان میں سے چھ ان قبائلی لڑاکوں کے رشتہ دارکے تھے جو اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے ذریعہ تین خواتین اور تین لڑکیوں کو گولی مار کر قتل کر دینے اور چار بچوں کو زخمی کئے جانے کی خبر ہے۔

      First published: