اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسرائیل نے غزہ کو میزائلوں سےبنایانشانہ، آخر کیوں بڑھ رہی ہے اسرائیل فلسطین کشیدگی؟

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سال 2006 میں حماس نے غزہ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور دوسری جماعت الفتح (Fatah) کے ساتھ تنازعہ کے نتیجے میں فتح کو 2007 میں غزہ سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں نے مذاکرات کے دور منعقد کیے لیکن وہ خود کو مربوط کرنے میں ناکام رہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Palestine
    • Share this:
      اسرائیل نے اتوار کے روز غزہ پٹی (Gaza Strip) میں قائم فلسطینی مسلح گروپوں کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کے جواب میں فوجی مقامات پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام نے کہا کہ اتوار کی صبح اسرائیلی طیاروں نے فلسطین کی اسلام پسند جماعت حماس (Hamas) کی ایک ہتھیار بنانے والی تنصیب اور زیر زمین سرنگ کو نشانہ بنایا ہے۔ ہفتے کی شام غزہ پٹی سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے۔ کسی فلسطینی گروپ نے راکٹوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ فلسطینی راکٹوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ غزہ۔اسرائیل باڑ (Gaza-Israel fence) کے قریب کھلے علاقے میں گرے۔

      ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بعد ازاں حماس نے اسرائیلی طیاروں پر فائرنگ کی جو غزہ پٹی کے اندر میزائل داغ رہے تھے۔ اس کے مسلح ونگ نے اسرائیلی طیاروں کو طیارہ شکن فائر اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیل-فلسطینی کشیدگی (Israeli-Palestinian tensions) میں اضافے کے باوجود غزہ محاذ حال ہی میں کافی بہتر رہا۔ حماس اور دیگر گروپس جیسے فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) اگست کے بعد سے خاموش رہا۔ اس دوارن اسرائیل اور فلسطینی اسلامی جہاد نے بالآخر جنگ بندی تک پہنچنے سے پہلے تین دن کی جنگ لڑی تھی۔

      اسرائیل پر فلسطینیوں کے راکٹ حملے:

      غزہ پٹی میں مقیم گروپ اکثر اسرائیل پر راکٹ فائر کرتے ہیں، وہ چھوٹے، بڑے حملے کرتے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں اکثر شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ چونکہ اسرائیلی فضائی حدود زیادہ تر آئرن ڈوم نامی فضائی دفاعی نظام سے محفوظ ہے، جو فلسطینی راکٹوں کی ایک بڑی تعداد کو روکتا ہے، اس لیے زیادہ تر ہلاکتیں غزہ پٹی میں ہوتی ہیں۔ غزہ سے باہر کے فلسطینی علاقوں پر فلسطینی اتھارٹی (PA) کی حکومت ہے اور غزہ پٹی پر حماس کی حکومت ہے۔

      سال 2006 میں حماس نے غزہ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور دوسری جماعت الفتح (Fatah) کے ساتھ تنازعہ کے نتیجے میں فتح کو 2007 میں غزہ سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں نے مذاکرات کے دور منعقد کیے لیکن وہ خود کو مربوط کرنے میں ناکام رہے۔ حماس اور پی آئی جے جیسے گروپ اکثر اسرائیل سے لڑتے ہیں اور راکٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان آخری بڑا تنازع مئی 2021 میں ہوا تھا جس کا آغاز اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کئی ہفتوں کی کشیدگی کے بعد اسرائیل میں غزہ راکٹوں سے ہوا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم:

      اسرائیل میں رہنے والا ایک ہندوستانی شہری بھی ان حملوں میں مارا گیا۔ جب 11 روزہ جنگ آخرکار ختم ہوئی، تو 243 فلسطینی، 12 اسرائیلی اور ایک ہندوستانی ہلاک ہو چکا تھا۔ حماس اور پی آئی جے دونوں اسرائیل کی تباہی اور اس کی جگہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ جب کہ پی آئی جے دو ریاستی حل کی مخالفت کرتا ہے۔

      حماس نے اس طرح کے منصوبے کے لیے کھلے دل کا اظہار کیا ہے، حالانکہ دو ریاستی حل اسرائیل کو تباہ کرنے کے اس کے مقصد کی خلاف ورزی ہوگا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: