உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دوستی کے بعد اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں کھولا سفارت خانہ، ٹرمپ کا رہا ہے اہم رول

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    دراصل، پچھلے سال ستمبر میں یو اے ای نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا تھا جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی رشتوں کو قائم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اسرائیل کا یو اے ای میں سفارت خانہ کھولنا دنیا کے لئے بڑی خبر اس لئے مانی جا رہی ہے کیونکہ اب تک مسلم ملکوں نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کیا تھا۔

    • Share this:
      یروشلم۔ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی (Abu Dhabi) میں سفارت خانہ کھولنے کا عوامی اعلان کر دیا ہے۔ دراصل، پچھلے سال ستمبر میں یو اے ای نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا تھا جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی رشتوں کو قائم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اسرائیل کا یو اے ای میں سفارت خانہ کھولنا دنیا کے لئے بڑی خبر اس لئے مانی جا رہی ہے کیونکہ اب تک مسلم ملکوں (Muslim Countries) نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کیا تھا۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ گبی اشوکنجی نے یو اے ای میں سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای میں سفارت خانہ کھولنے کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں اور توسیع آئے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان پچھلے سال ستمبر سے ہی پروازیں چل رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی کاروباری سمجھوتے ہو چکے ہیں اور ہم اگے بھی کئی سمجھوتے کرنے والے ہیں۔ ہزاروں اسرائیلی مسافر بھی سیاحت کے لئے یو اے ای آ رہے ہیں۔

      یو اے ای اور اسرائیل میں ہوئی دوستی کے بعد اب مانا جا رہا ہے کہ کئی اور مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ کے مطابق، فی الحال یو اے ای کے دارالحکومت ابو ظبی میں ایک عارضی جگہ پر سفارت خانہ کھولا گیا ہے۔ بعد میں مستقل سفارت خانہ کی تعمیر کی جائے گی۔ دراصل، مسلم ملکوں کو اب لگنے لگا ہے کہ امریکہ سے اچھے رشتے کا راستہ نہ صرف اسرائیل سے ہوتے ہوئے جاتا ہے بلکہ اسرائیل سے دوستی کرنے کے بعد ہی انہیں کم قیمت پر جدید ٹیکنالوجی ملے گی جس سے ان کے لئے ترقی کا راستہ کھلے گا۔

      اسرائیل اور یو اے ای کو ساتھ لینے میں سب سے بڑا رول امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نبھایا تھا۔ پچھلے سال ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان سمجھوتے پر دستخط ہونے کی بات کہہ کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: