ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیل: نیتن یاہو نہیں بنا پائے حکومت، 17 ستمبر کو پھر ہوں گے انتخابات

نو اپریل 2019 کو ہوئے انتخابات میں نیتن یاہو کی قیادت میں لیکود (لیکوڈ) پارٹی کو 120 میں سے 65 سیٹیں ملی تھیں، لیکن اسرائیلی بیتے نیو پارٹی نے اتحاد میں شا مل ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام ہو گئے تھے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 30, 2019 12:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اسرائیل: نیتن یاہو نہیں بنا پائے حکومت، 17 ستمبر کو پھر ہوں گے انتخابات
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو: فائل فوٹو، رائٹرز۔

اسرائیل نے بدھ کو ایک بل پاس کر کے کنیست (پارلیمنٹ) کو تحلیل کر دیا اور وسط مدتی انتخابات کے لئے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی۔ کنیست کے 120 میں سے 74 اراکین نے وسط مدتی انتخابات کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 45 اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا ۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے 42 ویں دن بعد بھی حکومت بنانے میں ناکام رہنے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں یہ بل لایا گیا تھا ۔

نو اپریل 2019 کو ہوئے انتخابات میں نیتن یاہو کی قیادت میں لیکود (لیکوڈ) پارٹی کو 120 میں سے 65 سیٹیں ملی تھیں، لیکن اسرائیلی بیتے نیو پارٹی نے اتحاد میں شا مل ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اسرائیلی بتی نیو پارٹی کے صدر اویگڈور لیبرمین نے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تاکہ یہودی فرقہ کے طالب علم اسرائیلی فوج میں شامل ہو سکیں۔

نیتن یاہو نے لیبر مین کی اس مطالبے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا’’ لیبرمین کی منشا یہودی فرقے کے طالب علموں کو حق دلانے کی نہیں ہے۔ وہ صرف کچھ ووٹوں سے ہماری حکومت کو گرانا چاہتے ہیں تاکہ وسط مدتی انتخابات میں انہیں کچھ زیادہ ووٹ مل سکیں ، لیکن ایسا نہیں ہو گا‘‘۔

First published: May 30, 2019 12:08 PM IST