உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Synthetic Embryo: دنیا کا پہلا مصنوعی جنین تیار، اسرائیلی سائنسدانوں نے خلیات کی مدد سے جاندار بنایا

    اسرائیلی سائنسدانوں نے انجام دیا حیرت انگیز کارنامہ (علامتی تصویر)

    اسرائیلی سائنسدانوں نے انجام دیا حیرت انگیز کارنامہ (علامتی تصویر)

    World's First Synthetic Embryo: ویزمین کے ونڈر سائنس نیوز اینڈ کلچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے پروفیسر جیکب ہنا نے کہا کہ اب تک کی زیادہ تر تحقیق میں یہ پایا گیا تھا کہ خصوصی خلیات یا تو پیدا کرنا مشکل ہیں یا انہیں الگ تھلگ کرنا پڑا۔

    • Share this:
      World's First Synthetic Embryo: دنیا کا پہلا مصنوعی ایمبریو(جنین) تیار کر لیا گیا ہے۔ اس میں جاندار کا دل بھی دھڑکا ہے اور دماغ بھی مکمل شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل کے ویزمین انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کو اس کے لیے نہ کسی فرٹیلائزڈ انڈوں کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی اسپرم کی ضرورت پڑی۔

      جرنل میڈیکل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں، ٹیم نے چوہے کے اسٹیم سیلز سے جنین تیار کیا۔ اسے لیبارٹری میں ایک خاص قسم کے برتن میں برسوں تک رکھا گیا تھا۔ اس برتن میں، اس نے والدین کے خلیوں سے ہی ایک مکمل جنین تیار کر دیا۔ جس کا دل بھی دھڑکا تھا اور اس کے دماغ نے بھی مکمل شکل اختیار کر لی۔ یہ رحم کے باہر اسٹیم سیلز (والدین خلیات) کو شامل کرکے تیار کیا گیا ہے۔ خلیے کی مدد سے پورا جاندار بنایا گیا۔ سائنسدانوں نے رحم میں جنین کی نشوونما کے لیے وہی عمل استعمال کیا۔ اس میں صرف مصنوعی آلات کی مدد لی گئی۔ والدین کے خلیوں کو بیکر کے اندر غذائیت کے محلول میں مستقل گھومنے کے ساتھ رکھا گیا تاکہ نال کو غذائی اجزاء کی فراہمی کے لیے جسمانی خون کا بہاؤ مسلسل جاری رہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Taiwan China News: تائیوان نے چینی ڈرونز کو کیا خبردار! اپنی حفاظت کی خاطر بھڑکائے شعلے!

      یہ بھی پڑھیں:
      Exclusive: سری لنکا میں حکومت سازی کے بعد ہندوستان اور چین سے کیسے ہوں گے تعلقات؟

      محققین نے کہا، ہم نے بہت بڑی رکاوٹ کو دور کیا
      ویزمین کے ونڈر سائنس نیوز اینڈ کلچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے پروفیسر جیکب ہنا نے کہا کہ اب تک کی زیادہ تر تحقیق میں یہ پایا گیا تھا کہ خصوصی خلیات یا تو پیدا کرنا مشکل ہیں یا انہیں الگ تھلگ کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، اچھی طرح سے ساختہ ٹشوز ٹرانسپلانٹیشن کے لیے موزوں نہیں ہوپاتے تھے۔ ہم ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق میڈیکل سائنس کی دنیا کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: